جامعہ کراچی کی اراضی پر بننے والا پٹرول پمپ سیل کردیا گیا

جامعہ کراچی کی اراضی پر بننے والا پٹرول پمپ سیل کردیا گیا

این او سی کی منسوخی کے باوجود پمپ کا افتتاح کر دیا گیا،خالد محمود عراقی جلد پمپ کو گرا کر زمین کو اصل حالت میں بحال کر دیا جائے گا،شیخ الجامعہ

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی نے جمعرات کو جامعہ کراچی کی اراضی پر بننے والے غیر قانونی پٹرول پمپ کو باقاعدہ سیل کر دیا۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے بتایا کہ این او سی منسوخ ہونے کے باوجود پمپ کا افتتاح کر دیا گیا اور پٹرول کی فروخت شروع کردی گئی تھی جس کے بعد اس کی اطلاع اعلیٰ حکام کو دی گئی جس پر ڈپٹی کمشنر شرقی نے فوری کارروائی کی اور پٹرول پمپ کو سیل کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی پمپ کو گرا کر زمین کو اصل حالت میں بحال کر دیا جائے گا۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر شرقی کے دفتر سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے دستخط سے باقاعدہ خط بھی جاری کر دیا گیا جس کے مطابق پمپ کا این او سی محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے خط اور مختار کار کی رپورٹ کے ضمن میں منسوخ کیا گیا۔این او سی کی منسوخی کے خط میں کہا گیا کہ سیکٹر 22 اسکیم 33 تعلقہ گلشن اقبال ڈسٹرکٹ ایسٹ حافظ پٹرول پمپ کی این او سی جو اس سے قبل جاری ہوئی تھی اب منسوخ کر دی گئی۔ خالد محمود عراقی کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر قائم پٹرول پمپ کو خالی کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں کیونکہ اس کی لیز کی 33 سالہ مدت پہلے ہی مکمل ہوچکی ہے ۔محکمہ بورڈز و جامعات نے یونیورسٹی روڈ پر قائم پٹرول پمپ بھی خالی کرنے کی ہدایت کرکے رپورٹ مانگ لی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں