ریڈ لائن ودیگر منصوبوں کیخلاف درخواست جرمانے کیساتھ مسترد
انتظامی معاملات میں عدالتی مداخلت خلاف آئین، سپریم کورٹ بھی روک چکیسندھ ہائیکورٹ آئینی بینچ سے درخواست ناقابل سماعت قرار، 25ہزار جرمانہ عائد
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے بی آر ٹی ریڈ لائن سمیت دیگر منصوبوں کے خلاف دائر آئینی درخواست ابتدائی سماعت کے بعد جرمانے کے ساتھ مسترد کردی۔ تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ انتظامی معاملات میں عدالتی مداخلت آئین کے منافی ہے ، سپریم کورٹ بھی انتظامی معاملات میں مداخلت سے عدلیہ کو متعدد بار روک چکی۔ عدالت نے درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے درخواست گزار وکیل پر 25 ہزار جرمانہ عائد کردیا اور ہدایت کی کہ جرمانے کی رقم 7 دن کے اندر سندھ ہائیکورٹ کلینک میں جمع کرائی جائے ۔سماعت کے دوران وکیلِ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت نے کراچی سمیت دیگر شہروں میں بی آر ٹی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھنے سے عوام پر مزید ٹیکس عائد کیے جائیں گے ، تاحال یہ منصوبے مکمل نہیں ہو سکے اور اس کے نتیجے میں پبلک فنڈز ضائع ہو رہے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ بی آر ٹی منصوبوں کی مکمل تفصیلات، غیر ملکی قرضوں کا ریکارڈ اور عوام کو فراہم بسوں کی تفصیلات طلب کی جائیں۔ عدالت نے تمام دلائل کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ یہ معاملہ پالیسی اور انتظامی نوعیت کا ہے ، جس میں عدالتی مداخلت کا جواز نہیں۔