سیف سٹی منصوبہ 2ماہ میں شروع کیا جائے گا، وزیراعلیٰ سندھ
ٹیکنالوجی کی تنصیب مکمل، حیدر آباد، سکھر کیلئے بھی تیاری کی جائے ، مراد شاہمنصوبہ 2ماہ کے اندر فعال بنانے کیلئے ماہر عملہ بھرتی کرنے کی ہدایت کردی
کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سیف سٹیز اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کراچی سیف سٹی منصوبے کے پہلے مرحلے کا آغاز دو ماہ میں کیا جائیگا کیونکہ ٹیکنالوجی کی تنصیب مکمل ہو چکی اور آزمائشی مراحل جاری ہیں ۔وزیراعلیٰ نے سندھ سیف سٹی اتھارٹی کو ہدایت کی کہ حیدرآباد اور سکھر کیلئے بھی سیف سٹی منصوبوں کی تیاری شروع کی جائے، ایک جامع منصوبہ ٹائم لائن کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ اس کی منظوری دی جا سکے ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ماہر عملہ فوری بھرتی کیا جائے تاکہ اربوں کے اس منصوبے کو دو ماہ میں فعال بنایا جا سکے ۔ اجلاس میں منصوبے کے تعمیراتی مرحلے سے فعال نگرانی اور قانون نافذ کرنے کے مرحلے میں داخل ہونے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 300 پول سائٹس پر 1,300 کیمرے ، 18 پوائنٹ آف پریزینس سائٹس اور 23 ایمرجنسی رسپانس گاڑیاں شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے 20 کروڑ کے نظرثانی شدہ بجٹ کی منظوری بھی دی، اگرچہ مجموعی بجٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تاہم فوری عملی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے فنڈز کو انسانی وسائل اور ٹرانسپورٹ و پٹرولنگ کے شعبوں میں منتقل کیا گیا۔ سندھ سیف سٹی اتھارٹی عارضی طور پر سینٹرل پولیس آفس سے کام کریگی جہاں انسپکٹر جنرل پولیس نے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے موجودہ نظام سے ہم آہنگی کیلئے مکمل فلور فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔