آگ سے بچائو : قوانین پر عملدرآمد کیلئے مہم کا آغاز
ابتدائی مرحلے میں 35رہائشی اور کمرشل عمارتوں کا معائنہ مکمل ، وزیر بلدیات کی ہدایت پر صوبے کے تمام ریجنز میں فائر سیفٹی نوٹس جاریکے ایم سی سروے میں شامل 266عمارتوں کو بھی نوٹسزبھیج رہے ،2024میں ہدایات پرمؤثر عملدرآمد نہیں ہوا،ڈی جی ایس بی سی اے کااعتراف
کراچی(آئی این پی)سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے )نے سندھ بھر میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے جامع انفورسمنٹ ڈرائیو کا آغاز کر دیا ہے ۔ صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر صوبے کے تمام ریجنز میں فائر سیفٹی نوٹس جاری کیے گئے ہیں جس سے واضح کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی صرف کراچی تک محدود نہیں۔ ایس بی سی اے کے علاقائی دفاتر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ رہائشی اور کمرشل عمارتوں کا معائنہ کر کے غیر مطابقت کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو نے بتایا کہ فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کے لیے خصوصی تکنیکی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو عمارتوں میں فائر فائٹنگ آلات کی موجودگی اور فعالیت، ایمرجنسی ایگزٹس کی دستیابی اور فائر الارم سسٹمز کی درست حالت کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد فائر سیفٹی معائنوں کے عمل کو مزید تیز کر دیا گیا ہے جس نے رہائشی اور کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کی سنگین خامیوں کو اجاگر کیا۔ ڈائریکٹر جنرل کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کراچی کے مختلف علاقوں میں 35 رہائشی اور کمرشل عمارتوں کا معائنہ مکمل کیا جا چکا ہے ۔ معائنہ ٹیمیں فائر فائٹنگ سسٹمز، ایمرجنسی راستوں، فائر الارم سسٹمز اور مجموعی ایمرجنسی تیاری کا جائزہ متعلقہ بلڈنگ قوانین اور قواعد و ضوابط کے مطابق لے رہی ہیں۔
مزمل حسین ہالیپوٹو نے مزید بتایا کہ جہاں فائر سیفٹی کے انتظامات ناکارہ یا غیر فعال پائے گئے ہیں وہاں بلڈنگ اونرز، بلڈرز اور مینجمنٹ کو اصلاحی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مقررہ مدت میں فائر فائٹنگ آلات کی تنصیب اور حفاظتی اقدامات مکمل نہ کرنے کی صورت میں عمارتوں کو سیل کرنے سمیت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ فائر سیفٹی کو یقینی بنانا بلڈرز، بلڈنگ اونرز اور یونینز کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہو نے مزید کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سروے میں شامل 266 عمارتوں سمیت شہر کی دیگر اہم رہائشی و کمرشل عمارتوں کو بھی فائر سیفٹی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جنوری 2024 میں بھی کے ایم سی کی جانب سے بلڈرز، بلڈنگ اونرز اور یونینز کو فائر سیفٹی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں تاہم ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کے واقعے کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے رہائشی اور کمرشل عمارتوں کو فائر فائٹنگ آلات کی تنصیب اور ان کی باقاعدہ دیکھ بھال یقینی بنانے کے لیے باضابطہ نوٹس جاری کیے ہیں۔