میرپور خاص:ادبی نشست میں صحافت، ادب کا رشتہ مضبوط بنانے پراتفاق

میرپور خاص:ادبی نشست میں صحافت، ادب کا رشتہ مضبوط بنانے پراتفاق

نیشنل پریس کلب میں انعقاد، مزاحمتی ادب ہر ظلم کے خلاف آواز ہے ، ماہر اجمیریتعلیم کوصرف روزگار تک محدود کرنا نوجوانوں کوکتاب سے دور کررہا، نوید سروش

میرپور خاص (ڈسٹرکٹ ڈیسک)نیشنل پریس کلب میرپور خاص میں ‘‘ایک شام ماہر اجمیری کے ساتھ’’کے عنوان سے ادبی نشست منعقد ہوئی۔ پروگرام کے آغاز میں میزبان جاوید اقبال نے کہا کہ صحافت اور ادب کے باہمی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کیلئے نیشنل پریس کلب ہر 15 دن بعد ادبی نشستوں کا انعقاد کریگا، جس کا یہ پہلا پروگرام ہے ۔ نشست میں شہر کی نامور ادبی شخصیات، اردو زبان کے معروف شاعر ماہر اجمیری اور نوید سروش نے شرکت کی۔ ماہر اجمیری نے کہا کہ مزاحمتی ادب کا مقصد معاشرے میں ہر قسم کی ناانصافی اور ظلم کیخلاف آواز بلند کرنا ہے ۔ یہ روایت ماضی میں بھی اہلِ قلم نے نبھائی اور آج بھی جاری ہے ، تاہم میڈیا کی ترجیحات بدلنے کے باعث ادیب اور شاعر کی آواز کو وہ کوریج نہیں مل رہی۔

جس کے وہ مستحق ہیں۔ نوجوانوں اور مطالعے کے رجحان پر گفتگو کرتے ہوئے نوید سروش نے کہا کہ نوجوان نسل کے کتاب سے دور ہونے کی ایک نہیں بلکہ کئی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق تعلیم کو صرف اچھی نوکری کے حصول تک محدود سمجھنا، سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور قومی زبان میں تعلیم کا فقدان نوجوانوں کو مطالعے سے دور کر رہا ہے ۔ اس موقع پر ادب اور صحافت کے کمزور ہوتے تعلق پر بات کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کے فروغ کے بعد تیز رفتار صحافت نے زبان کی درستی اور معیار کی اہمیت کو کم کر دیا ہے ، جس سے ادب اور صحافت کا رشتہ متاثر ہوا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں