متحدہ کا فارنزک لیب منصوبے کی تحقیقات کامطالبہ

متحدہ کا فارنزک لیب منصوبے کی تحقیقات کامطالبہ

مختص اربوں روپے کہاں گئے ، ناکارہ موبائل وینز کس کے حکم پر خریدی گئیں؟ پیپلزپارٹی نے اربوں روپے ضائع کر کے سندھ کو ایک ناکام صوبہ بنا دیا ،ترجمان

کراچی(اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ترجمان نے سندھ میں فارنزک نظام کی بدحالی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2020ء سے سندھ فارنزک سائنس لیبارٹری کا قیام محض فائلوں میں دفن ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے اربوں روپے ضائع کر کے سندھ کو ایک ناکام صوبہ بنا دیا ہے ، ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فارنزک کرائم سین یونٹس کی 50 موبائل وینز ناکارہ پڑی ہیں یہ فقط نااہلی نہیں بلکہ منظم کرپشن اور مجرمانہ غفلت کا ثبوت ہے ، گُل پلازہ سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا یہ پیپلز پارٹی کی مکمل ناکامی ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں فارنزک شواہد اکٹھے کرنے کے لئے لاہور سے ٹیم منگوانی پڑی کیا یہی اٹھارہ سالہ حکمرانی کی کارکردگی ہے؟

ترجمان متحدہ نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے جان بوجھ کر فارنزک نظام کو غیر فعال رکھا تاکہ ٹارگٹ کلرز قبضہ مافیا اور کرپشن میں ملوث عناصر کو فائدہ پہنچتا رہے جب شواہد ہی نہیں ہوں گے تو مجرم کیسے پکڑے جائیں گے ؟ ترجمان متحدہ نے سوال اٹھایا کہ سندھ فارنزک لیب کے لیے مختص اربوں روپے کہاں گئے ؟ ناکارہ موبائل وینز کس کے حکم پر خریدی گئیں؟ اور ذمہ دار افسران آج تک کیوں محفوظ ہیں؟ انہوں نے واضح الفاظ میں مطالبہ کیا کہ سندھ فارنزک لیب منصوبے کی فوری جوڈیشل انکوائری کی جائے ، ذمہ دار وزراء اور افسران کو کٹہرے میں لایا جائے اور شہری سندھ کو دانستہ غیر محفوظ بنانے کی پالیسی ختم کی جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں