عالمی کانفرنس میں15سے زائد سائنسی مقالات پیش
جامعہ کراچی میں جاری کانفرنس کے دوسرے روز 6 سائنس دانوں کے لیکچرز موثر بریڈنگ اہداف کیلئے مخصوص اسکریننگ اپنانا ناگزیر ،پروفیسر سرجیشبالا
کراچی (این این آئی)جامعہ کراچی میں ڈاکٹر محمد اجمل خان انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ایکو اسمارٹ ایگریکلچر: غذائی تحفظ اور مستقبل کے لیے اسٹریس برداشت کرنے والے پودوں کا استعمال کے دوسرے روز 15 سے زائد تحقیقی مقالات پیش کیے گئے ۔ کانفرنس میں بیرونِ ملک سے چھ سائنس دانوں نے بالمشافہ جبکہ آسٹریلیا، جرمنی اور چین سے چار ماہرین نے آن لائن لیکچرز دیے ۔ تقریب میں ریسرچ طلبہ، اساتذہ اور سائنس دانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے پروفیسر سرجیشبالا نے مستقبل کے موسمی حالات کے مطابق فصلوں کی تیاری کے لیے سیل بیسڈ فینوٹائپنگ پر اپنی تحقیق پیش کی۔ انہوں نے تحقیقی شواہد کے ذریعے واضح کیا کہ روایتی فصلوں کے فینوٹائپنگ کے طریقے ، جو پرانے سائنسی طریقہ کار پر مبنی ہیں۔
عملی زرعی میدان میں اکثر گمراہ کن ثابت ہوتے ہیں، جس کے باعث حقیقی معنوں میں دباؤ برداشت کرنے والی اقسام کی تیاری میں محدود کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ انہوں نیاس بات پر زور دیا کہ موثر بریڈنگ اہداف کے حصول کیلئے مخصوص اسکریننگ کو اپنانا ناگزیر ہے ۔ اگرچہ نمک برداشت کرنے والی اقسام کی جانچ کے جدید طریقے روایتی طریقوں کے مقابلے میں مہنگے ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے مستقبل میں غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لئے فنڈنگ اداروں کو ان کی اہمیت سے آگاہ کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔جرمنی کی یونیورسٹی آف گیسن سے پروفیسر ڈاکٹر ہانس ورنر کوئرو نے فوٹو سنتھیسز کے بنیادی اور ثانوی بائیوکیمیکل عوامل کو پودوں میں اسٹریس کی غیر مداخلتی اور موثر نشاندہی کے اشاریے کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کوئنوا جیسے ہیلوفائٹس میں اسٹریس برداشت کرنے کی ایکو فزیالوجیکل بنیادوں کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا۔