درخواست گزار کے واجبات کی فوری ادا ئیگی کا حکم
سندھ ہائیکورٹ نے اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کو جاری شوکاز نوٹس واپس لے لیاسندھ حکومت 1994سے 2006تک کے واجبات ادا نہیں کر رہی،درخواست
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے وفاقی شرعی عدالت کے سابق اسسٹنٹ رجسٹرار داؤد رستمانی کی پنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کے پنشن واجبات فوری ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے دوران عدالت کے حکم پر اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے ۔ اس پر عدالت نے اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کو جاری شوکاز نوٹس واپس لے لیا۔ درخواست گزار کے وکیل اسد اللہ بلو نے عدالت کو بتایا کہ داؤد رستمانی کو 1994 میں محکمہ تعلیم سندھ میں تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے آٹھ سال خدمات انجام دیں۔
وکیل کے مطابق اس کے بعد درخواست گزار کو آفس سپرنٹنڈنٹ سیشن کورٹ دادو تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے 12 سال تک فرائض انجام دیے ۔ 2006 میں داؤد رستمانی کو اسسٹنٹ رجسٹرار وفاقی شرعی عدالت تعینات کیا گیا اور وہ 2024 میں بطور اسسٹنٹ رجسٹرار وفاقی شرعی عدالت ریٹائر ہوئے ۔ وکیل کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت 1994 سے 2006 تک کی پنشن اور دیگر واجبات ادا نہیں کر رہی، جس کے باعث درخواست گزار کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے ۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکم دیا کہ درخواست گزار کی واجب الادا پنشن کی رقم فوری طور پر ادا کی جائے ، جبکہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کی یقین دہانی کے بعد اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کے خلاف جاری شوکاز نوٹس واپس کر دیا گیا۔