موٹروے پر اتنے گڑھے گاڑی چلانا مشکل ہوگیا،ہائیکورٹ

موٹروے پر اتنے گڑھے گاڑی چلانا مشکل ہوگیا،ہائیکورٹ

اس وقت موٹروے پر جائیں تو دو ہزار گاڑیاں کھڑی ہوں گی ،دوران سماعت ریمارکس ایم نائن پر گرین بیلٹ، نالے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے ایم نائن موٹروے پر گرین بیلٹ، نالے اور سروس روڈ پر تعمیرات سے متعلق دائر مختلف آئینی درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایم نائن موٹروے کی گرین بیلٹ اور نالے پر تعمیرات کی جا رہی ہیں جبکہ موٹروے سے متصل سروس روڈ پر بھی غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا موٹروے کے اطراف تمام تجاوزات ختم کر دی گئی ہیں؟ جس پر سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ تجاوزات ختم کر دی گئی ہیں، اگر کہیں موجود ہوں تو اسکور نشاندہی کرے ۔

وکیل اسکور نے عدالت کو بتایا کہ اسکور کی جانب سے کوئی کمرشل سرگرمیاں نہیں کی جا رہیں بلکہ مسافروں کی سہولت کے لیے بس ٹرمینل اور آرام گاہیں بنائی جا رہی ہیں۔سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ نہ تو سڑک بنا رہے ہیں اور نہ ہی اس کی مرمت کر رہے ہیں، صرف کمرشل کام کیا جا رہا ہے ۔ جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس دیے کہ سکھر تک سفر کرنے میں دس گھنٹے لگتے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس وقت موٹروے پر جائیں تو دو ہزار گاڑیاں کھڑی ہوں گی اور موٹروے پر اتنے گڑھے ہیں کہ گاڑی چلانا مشکل ہو چکا ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پہلے سڑک کو درست کیا جائے ، بعد میں دیگر کام کیے جائیں اور کہا کہ مرکزی کام چھوڑ کر دکانیں بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں