بلدیہ گھوٹکی کے ملازمین کا تنخواہوں کیلئے سکھر میں مظاہرہ

بلدیہ گھوٹکی کے ملازمین کا تنخواہوں کیلئے سکھر میں مظاہرہ

6سال قبل بلا جواز 368 ملازمین کی تنخواہیں روکی گئیں، مشکلات کا شکار ہیںبرسوں سے بحالی کی جدوجہد کررہے ، شنوائی نہیں ہورہی، علی مردان ودیگر

سکھر(بیورو رپورٹ) گھوٹکی میونسپل کمیٹی کے 368 ملازمین کوتنخواہ کی عدم فراہمی کے خلاف ملازمین کی بڑی تعداد نے ورکرز یونین کے رہنماؤں علی مردان شیخ ، عبدالمجید جسکانی ، بشیر احمد کلوڑ، ہدایت اللہ ابڑو، منیر احمد لکھن،، عبیداللہ اور سید وحید علی شاہ و دیگر کی قیادت میں سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبات کے حصول کیلئے نعرے بازی کی ۔ اس موقع پر ملازمین کا کہنا تھا کہ سال 2013 میں پورے سندھ میں تقریباً 15 ہزار ملازمین بھرتی کیے گئے تھے ، جن میں ضلع گھوٹکی میں 1800 ملازمین شامل تھے ۔ ضلع گھوٹکی کی پانچ تحصیلوں میں تعینات تمام ملازمین کو باقاعدگی سے تنخواہیں دی جا رہی تھیں اور وہ خود بھی کئی سال تک تنخواہیں وصول کرتے رہے ہیں اچانک اور بلاجواز طور پر چھ سال قبل 368 ملازمین کی تنخواہیں بند کر دی گئیں جس کے بعد وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں ، کئی برسوں سے اپنی تنخواہوں کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں سمیت باعزت اور بہتر زندگی گزار سکیں، مگر تاحال کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے ، مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِاعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ ان کی گزشتہ چھ سالوں سے بند تنخواہیں فوری طور پر بحال کی جائیں اور انصاف فراہم کیا جائے بصورت دیگر وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے بچوں سمیت دھرنا دینے پر مجبور ہوجائینگے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں