سات سرکاری افسران کے وارنٹ جاری کرنے کاحکم
رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز سمیت افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کا نوٹس صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں رفاحی پلاٹ سے متعلق قبضے کے کیس کی سماعت
کراچی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی اینٹی کرپشن عدالت نے کراچی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز یونین کے رفاحی پلاٹ سے متعلق مبینہ غیر قانونی قبضے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمے میں رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز سندھ سمیت سات سرکاری افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کا نوٹس لیتے ہوئے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے براہِ راست شکایت کی سماعت کے بعد ابتدائی طور پر ہر ملزم کے خلاف 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت کی اور مزید کارروائی 23 فروری تک ملتوی کردی۔شکایت کنندہ محمد نعیم نے موقف اختیار کیا کہ وہ کراچی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز یونین لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔
ان کے مطابق یونین کی ملکیتی رفاہی پلاٹ پر ماضی میں بھی قبضے کی کوششیں ہوچکی ہیں اور اس سلسلے میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی تاہم کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعات 200 کے تحت شکایت گزار کا بیان قلمبند کرنے کے بعد ابتدائی انکوائری کا حکم دیا تھا، جس کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے رپورٹ جمع کرائی۔ عدالت نے رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز سندھ عبد الواجِد شیخ، اسسٹنٹ رجسٹرار نذیر احمد ابڑو، گورنمنٹ کوآپریٹو انسپکٹر جہانزیب بلوچ، جونیئر کلرکس ارمـان کوثر اور سید اعظم علی، سیکریٹری کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ نواز سوہو اور ایس ایچ او بہادرآباد نوید سومرو کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے۔