کے ڈی اے 1954 میں بنی ، آج تک حالت زار وہی ، سندھ ہائیکورٹ
جب آپ ترقی کر ہی نہیں رہے تو دکان کیوں کھولی ہے ، بند کردیں،ریکارڈ دیکھیں تو اربوں روپے کے ڈی اے کو ملتے ہیں اداروں میں نہ تنخواہ ہے نہ پنشن،جسٹس عدنان الکریم میمن ، عدالت کی سرکاری وکیل کو کمیشن کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کے ریٹائرڈ ملازم کی پنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست پر سرکاری وکیل کو کمیشن کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی ہے ۔ سندھ ہائی کورٹ میں کے ڈی اے کے ریٹائرڈ ملازم کی پنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ۔ دوران گزار کے وکیل سہیل موسانی کا کہنا تھاکہ عبدالنعیم خان کے ایک کروڑ 39 لاکھ سے زائد واجبات ادا نہیں کیے گئے ۔ کے ڈی اے کے وکیل کی جانب سے واجبات کی ادائیگی کے لئے مہلت کی استدعا پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس میں کہاکہ کے ڈی اے 1954 میں بنی تھی، آج تک حالت زار وہی ہے۔
جب آپ ترقی کر ہی نہیں رہے تو دکان کیوں کھولی ہے ، بند کردیں۔ عدالت نے ریمارکس میں کہاکہ اداروں میں نہ تنخواہ ہے نہ پنشن ہے ،ریکارڈ دیکھیں تو اربوں روپے کے ڈی اے کو ملتے ہیں، کونسا ادارہ ایسا ہے جو کماتا ہے ، نہ واٹر کارپوریشن کما رہا ہے نہ کے ایم سی، عدالت ملازمین کا تحفظ کرے گی۔ دوران سماعت کے ڈی اے کے وکیل کا کہنا تھاکہ دو ماہ کا وقت دے دیا جائے ۔ سرکاری وکیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیاگیاکہ یونین کے کیس میں ہائی کورٹ نے کمشنر کی سربراہی میں کمیشن بنایا تھا۔
9 برس قبل کی رپورٹ میں سالانہ پانچ سو ملین گرانٹ دی جاتی تھی، تین سو ملین کے ایم سی اور دو سو ملین کے ڈی اے کو دیئے جاتے تھے ، اب تو گرانٹ کی رقم بڑھ چکی ہوگی، حکومت تو گرانٹ دے رہی ہے لیکن یہ پینشن نہیں دے رہے ۔ عدالت نے ریمارکس میں کہاکہ ڈی جی کے ڈی اے نے کہا کہ پلاٹ فروخت کرکے واجبات دیں گے ، کیا قیمتی اثاثے بھیچ کر واجبات دینگے ، اثاثے کون بیچتا ہے ؟ آپ قانون سازی کرکے پینشن ہی ختم کردیں،جس کو نوکری کرنی ہوگی کرے گا ورنہ پرائیویٹ نوکری کرے گا،جب سہولت دینگے تو پینشن بھی ادا کرنا پڑے گی۔ جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس میں کہاکہ کے ڈی اے کا کم از کم دس سال کا آڈٹ ہونا چاہیئے ۔