کے الیکٹرک کی سابق افسر نے گورنر کافیصلہ چیلنج کردیا
گورنر سندھ نے کارروائی کے دوران مفادات کے ٹکراؤ کو مدنظر نہیں رکھا سابق سی ای او کے طرز عمل سے ہراسانی کاسامنا کرنا پڑا،مہرین عزیز خان
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کی سابق افسر مہرین عزیز خان نے گورنر سندھ کے فیصلے کے خلاف آئینی درخواست دائر کردی۔ درخواست گزار مہرین عزیز خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ملازمت کے دوران سابق سی ای او مونس علوی کے طرز عمل اور رویے کے باعث درخواست گزار کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جو خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ کے قانون 2010 کے تحت ہراسانی کے زمرے میں آتے ہیں۔نومبر 2020 میں انہوں نے محتسب سندھ کے سامنے ہراسانی کی شکایت دائر کی جس کے بعد متعلقہ حکام کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ اس دوران جواب دہندگان نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سابق ملازم ہراسانی کا مقدمہ دائر نہیں کر سکتا، الزامات جنسی نوعیت کے نہیں اس لیے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا اور کے الیکٹرک ایک بین الصوبائی ادارہ ہے لہٰذا صوبائی محتسب کے پاس اختیار نہیں۔ عدالت نے ابتدائی طور پر محتسب کے حتمی فیصلے پر حکم امتناع جاری کیا اور بعد ازاں اختیار سماعت کے معاملے پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔ درخواست گزار نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ گورنر سندھ نے کارروائی کے دوران مفادات کے ٹکراؤ کو مدنظر نہیں رکھا کیونکہ اپیل کنندہ کے وکیل ایک دوسرے مقدمے میں گورنر سندھ کی نمائندگی بھی کر رہے تھے ۔