مغوی بچوں سے موبائل فون چوری کرانے کا انکشاف

مغوی بچوں سے موبائل فون چوری کرانے کا انکشاف

ملزمان معصوم بچوں کو اغوا کر کے نشے کا عادی بناتے اورجرائم کراتے ہیں

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)شہر قائد میں اغوا کاروں کے چنگل سے بازیاب ہونے والے بچے ایان نے اپنے بیان میں لرزہ خیز انکشافات کیے جسے سن کر لوگوں کے دل دہل گئے ۔کراچی کے علاقے کورنگی کے 11سالہ ایان نے بازیابی کے بعد پولیس کو بتایا ہے کہ اغوا کار اسے تشدد کا نشانہ بناتے ، زبردستی نشہ کھلاتے اور پھر مختلف علاقوں میں لے جا کر موبائل فون چوری کی وارداتیں کرواتے تھے ۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بازیاب ہونے والے ایان نے بتایا کہ وہ کورنگی کا رہائشی ہے اور گھر والوں کے ساتھ سفاری پارک گیا ہوا تھا۔ نماز کے بعد مسجد سے باہر نکلتے ہی نامعلوم افراد نے منہ پررومال رکھ کر اسے اغوا کرلیا۔ بچے نے مزید بتایا کہ نشے کی گولیاں کھا کر ہم سو جاتے تھے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز مذکورہ بچے ایان کو سعود آباد پولیس نے کارروائی کے دوران بچوں کو اغوا کرنے والے منظم اور خطرناک گروہ کو حراست میں لیا تھا، اس دوران 11 سالہ مغوی بچے ایان کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔پولیس کے مطابق کارروائی میں ایک خاتون اور اس کے ساتھی کو گرفتار کیا گیا، جن کی شناخت فاطمہ اور ساحل کے نام سے ہوئی ہے ، ملزمان معصوم بچوں کو اغوا کر کے پہلے انہیں نشے کا عادی بناتے اور پھر ان سے چوری اور موبائل چھیننے جیسی وارداتیں کرواتے تھے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے منشیات اور مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں