ہراسانی کے باعث ہونے والی خودکشیاں قتل ہیں، مقررین
ایسے واقعات روکنے کیلئے معاشرہ متحرک، بیٹیوں کودباؤ برداشت کی تربیت دینا ہوگیمیرپور خاص کے نجی میڈیکل کالج کی فہمیدہ کی یاد میں تعزیتی کانفرنس سے خطاب
میرپور خاص (بیورو رپورٹ)نجی میڈیکل کالج میں ہراسانی کے بعد خودکشی کرنے والی طالبہ فہمیدہ لغاری کی یاد میں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ ہراسانی کے باعث ہونے والی خودکشیاں دراصل قتل ہیں، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے معاشرے کو متحرک ہونا ہوگا، بیٹیوں کو سماجی دباؤ کا سامنا کرنے اور آگے بڑھنے کی تربیت دینا ہوگی۔ فہمیدہ کے ورثاء سمیت لاہور، کراچی، حیدرآباد، عمرکوٹ، سکھر، خیرپور اور سندھ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے دانشوروں نے خطاب کیا، لاہور سے آئے ہیومن رائٹس کارکن محمد تحسین اور ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین قاضی خضر حیات نے کہا کہ اب سندھ سمیت پورے ملک میں یہ تحریک چلنی چاہیے کہ نو مور فہمیدہ لغاری، یعنی اب اس نوعیت کا یہ آخری واقعہ ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ ہماری کوئی بیٹی اس طرح موت کے منہ میں جائے ، انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور ملک کا آئین کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی کو ہراساں کرے یا اس پر تشدد کرے افسوسناک امر یہ ہے کہ جن اداروں نے تحفظ دینا ہے وہی بعض اوقات ظلم کے خلاف خاموش نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فہمیدہ کے کیس کو اٹھایا جائے گا اور ذمہ دار افراد کو سزا دلانے کی کوشش کی جائے گی۔