یونیورسٹی آف سرگودھا میں انسدادِ منشیات آگاہی سیمینار

یونیورسٹی آف سرگودھا میں انسدادِ منشیات آگاہی سیمینار

پاکستان میں تقریباً 7.6 ملین افراد منشیات کے عادی ہیں،سیمینار سے خطاب

سرگودھا(سٹاف رپورٹر)یونیورسٹی آف سرگودھا میں انسدادِ منشیات مہم کے سلسلے میں ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد نوجوان نسل کو منشیات کے مہلک اثرات سے آگاہ کرتے ہوئے نشے سے پاک، صحت مند اور محفوظ پنجاب کے خواب کو عملی شکل دینا تھا۔ یہ سیمینار ڈائریکٹوریٹ آف سٹوڈنٹ افیئرز اور پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے اشتراک سے منعقد ہوا۔سیمینار میں ڈائریکٹر پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ، لیفٹیننٹ کرنل (ر) جواد مسعود بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے ، جبکہ ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز ڈاکٹر محمود الحسن، چیئرپرسن شعبہ علوم اسلامیہ پروفیسر ڈاکٹر فیروز الدین شاہ، فیکلٹی ممبران، سٹاف اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ کرنل (ر) جواد مسعود نے منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو ایک سنگین سماجی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 7.6 ملین افراد منشیات کے عادی ہیں۔

جن میں 2.6 ملین نوجوان شامل ہیں، جبکہ ایک ملین خواتین بھی اس لت کا شکار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 45 فیصد منشیات کے عادی افراد کا تعلق پنجاب سے ہے اور 67 فیصد متاثرہ افراد کی عمر 15 سے 35 سال کے درمیان ہے ، جن میں طلباء کی بڑی تعداد شامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ کسی وار زون سے کم نہیں، کیونکہ اس کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے ۔نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگانے کے بجائے اسے محفوظ بنانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے سماجی شعور کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی دوستی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو برائی سے بچائیں، نہ کہ خود بھی اس کا حصہ بن جائیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پیئر پریشر ہمیشہ منفی کیوں ہو، اسے مثبت کیوں نہ بنایا جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں