ٹک ٹاکر سمیت 4افراد کے قتل کیس میں ملزمان بری
استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا،عدالتکیس میں پیش کردہ عینی اور ضمنی شواہد ناقص اور غیر تسلی بخش ہیں،فیصلہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ کراچی جنوبی نے ٹک ٹاکر سمیت چار افراد کے قتل کے مقدمے میں ملوث ملزمان عبدالرحمن عرف شوٹر اور سویرا کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا، جبکہ کیس میں پیش کردہ عینی اور ضمنی شواہد ناقص اور غیر تسلی بخش ہیں۔استغاثہ کے مطابق 2 فروری 2021 کو رینڈل روڈ انکلیسریا اسپتال کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ٹک ٹاکر مسکان، صدام حسین، ریحان شاہ اور عامر خان جاں بحق ہوئے تھے ۔ استغاثہ کے مطابق ملزم عبدالرحمن نے مبینہ طور پر ذاتی رنجش پر فائرنگ کی جبکہ شریک ملزمہ سویرا پر معاونت کا الزام تھا۔ پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ عینی گواہ، سی سی ٹی وی فوٹیج، اسلحہ کی برآمدگی اور کال ڈیٹا ریکارڈ ملزمان کے جرم کو ثابت کرتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اگرچہ طبی شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ چاروں افراد کی موت فائرنگ سے ہوئی، تاہم ملزمان کو جرم سے جوڑنے کے لیے ٹھوس اور قابل بھروسہ شواہد موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے کہا کہ مرکزی گواہ کا تاخیر سے سامنے آنا اور عدالت میں شناخت نہ کرنا استغاثہ کے مقدمے کو شدید نقصان پہنچاتا ہے ۔