لیاری یونیورسٹی میں گھوسٹ ملازمین بے نقاب، نوٹس جاری
9ملازمین کی نشاندہی، ایک افسر مستعفی، 30 لاکھ واپس، مزید کارروائی کا عندیہ
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ حکومت کے محکمہ بورڈز و جامعات کی ہدایات کے بعد بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں گھوسٹ اور دہری سرکاری ملازمت کے حامل ملازمین کے خلاف کارروائی تیز کر دی گئی، جہاں 9 ایسے ملازمین کا انکشاف ہوا ہے جو طویل عرصے سے ڈیوٹی سے غیر حاضر رہے یا دہری ملازمت کرتے تھے ۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق گھوسٹ ملازمین میں اسسٹنٹ پروفیسر، لیکچرار، اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات، کلرکس اور دیگر عملہ شامل ہے ۔ ان میں اسسٹنٹ پروفیسر ، لیکچرار اور اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات گزشتہ8ماہ سے ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوئے ۔ اسی طرح اسسٹنٹ کے عہدے پر تعینات ، سینئر کلرکس بھی آٹھ ماہ سے غیر حاضر ہیں جبکہ سب انجینئر گزشتہ چار ماہ سے ڈیوٹی سے غائب ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے طویل غیر حاضری پر مذکورہ ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ان ملازمین کو ماضی میں بھی متعدد بار نوٹسز دیے گئے تاہم کوئی تسلی بخش جواب نہیں آیا۔ یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ غیر حاضر ملازمین ڈیوٹی انجام دیے بغیر یونیورسٹی سے لاکھوں روپے تنخواہوں اور مراعات کی مد میں وصول کرتے رہے ۔دریں اثنا اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شبروز نے تقریباً 30 لاکھ روپے واپس جمع کرا کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔