جامعہ کراچی میں انتظامی صورتحال تشویشناک،ایم کیوایم
سندھ حکومت کی مسلسل غفلت نے معتبر درسگاہ کو شدید بحران سے دوچار کر دیا متعلقہ اداروں کا ٹس سے مس نہ ہونا افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہے ،مرکزی کمیٹی
کراچی(اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی مرکزی کمیٹی نے جامعہ کراچی میں پیدا ہونے والی حالیہ سنگین مالی، انتظامی اور تعلیمی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی مسلسل غفلت اور ناقص پالیسیوں نے ملک کی اس سب سے بڑی اور معتبر درسگاہ کو شدید ترین بحران سے دوچار کر دیا ہے ۔ مرکزی کمیٹی کے مطابق انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے حالیہ ہنگامی اجلاس میں سامنے آنے والے حقائق اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ اساتذہ کرام، افسران اور ملازمین کے دیرینہ واجبات کی عدم ادائیگی، ہاؤس سیلنگ کی معطلی اور دیگر مالیاتی مسائل نے جامعہ کے پورے انتظامی و تعلیمی ڈھانچے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اگر فی الفور ہنگامی بنیادوں پر تلافی کے اقدامات نہ کیے گئے تو جامعہ کراچی کا تدریسی اور امتحانی نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو جائے گا، جس کا براہِ راست اور ناقابلِ تلافی نقصان ہزاروں طلبہ و طالبات کے مستقبل کو ہوگا۔ ایم کیو ایم پاکستان کی مرکزی کمیٹی اساتذہ کے تمام جائز مطالبات اور ان کے آئینی و قانونی حقوق کی غیر مشروط اور بھرپور حمایت کا اعلان کرتی ہے ، کیونکہ اساتذہ کی جانب سے مسلسل احتجاج، مذاکرات اور ہر سطح پر توجہ دلانے کے باوجود حکومتِ سندھ اور متعلقہ اداروں کا ٹس سے مس نہ ہونا انتہائی افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہے ۔ ایم کیو ایم پاکستان اربابِ اختیار سے مطالبہ کرتی ہے کہ جامعہ کراچی کے لیے فوری طور پر خصوصی فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ جامعہ اس بدترین مالی تعطل سے نکل سکے ۔