ہل پارک کی سرکاری زمین پر قبضے کی کوشش بے نقاب

 ہل پارک کی سرکاری زمین پر قبضے کی کوشش بے نقاب

کے ایم سی نے اجازت نامے اور این او سی جاری کرنے کی تردید کر دی جعلسازی اور فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کرنے کی سفارش

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)جعلی دستاویزات کے ذریعے ہل پارک کی سرکاری زمین پر قبضے کی کوشش بے نقاب ہوئی ہے ، اس سلسلے میں کے ایم سی نے اجازت نامے اور این او سی جاری کرنے کی تردید کر دی ہے ۔کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) نے جعلی دستاویزات کے ذریعے ہل پارک کی سرکاری زمین پر قبضے کی کوششوں کا نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ادارے کی جانب سے مذکورہ اراضی کے حوالے سے کسی قسم کی اجازت یا این او سی جاری نہیں کیا گیا۔ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کی زمین پر جاری متنازع تعمیراتی سرگرمیاں سرکاری اراضی پر قبضے کی کوشش ہیں۔ کے ایم سی نے خط نمبر DL/KMC/232/2026 کو جعلی اور فرضی قرار دیتے ہوئے ہل پارک کی اراضی پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔اس سلسلے میں ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایچ او فیروز آباد کو قانونی کارروائی کے لیے باقاعدہ مراسلہ بھی ارسال کر دیا گیا ہے ۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کسی فرد یا ادارے کو ہل پارک کی زمین پر ترقیاتی حقوق نہیں دیے گئے اور پی ای سی ایچ ایس کے پلاٹ نمبر 39-G-4 کی قانونی حیثیت کی جانچ جاری ہے ۔کے ایم سی کی جانب سے زمینوں پر قبضہ، جعل سازی اور فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔ ہل پارک اراضی کیس سے متعلق تفصیلی رپورٹ میئر کراچی سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں