شدید گرمی میں بجلی کا بحران:12گھنٹے زائد لوڈشیڈنگ،شہری سراپا احتجاج

شدید  گرمی  میں  بجلی  کا  بحران:12گھنٹے  زائد  لوڈشیڈنگ،شہری  سراپا  احتجاج

قائد آباد، ملیر، شاہ فیصل کالونی ،ناتھا خان گوٹھ ،منگھوپیر، کیماڑی، سرجانی اور نیو کراچی میں بھی گھنٹوں بجلی غائب رہنے کی شکایات ،عوام گرمی میں پریشانبلوں کی وصولی اور بجلی چوری کی روک تھام کے الیکٹرک انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ،بل ادا کرنے والے اسٹار کسٹمرز کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے ،صارفین

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )شدید گرمی میں شہر قائد کے مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ بندش نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا، متعدد علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے سے بھی تجاوز کر گیا۔شہریوں کے مطابق اورنگی، کورنگی، لیاری، ماڑی پور اور لائنز ایریا سمیت کئی علاقوں میں بجلی کی مسلسل بندش کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔اسی طرح قائد آباد، ملیر، شاہ فیصل کالونی ،ناتھا خان گوٹھ ،منگھوپیر، کیماڑی، سرجانی اور نیو کراچی میں بھی گھنٹوں بجلی غائب رہنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔سولجر بازار، ہاکس بے روڈ اور گلشن معمار کے مکین بھی شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش سے پریشان ہیں۔بجلی کی بندش کے خلاف اورنگی ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں نے احتجاج بھی کیا اور مطالبہ کیا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم کی جائے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عدالت نے کے الیکٹرک کو پابند کیا تھا کہ رات 12 بجے کے بعد لوڈشیڈنگ نہ کی جائے تاہم بیشتر علاقوں میں رات 12 بجے کے بعد بھی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ، کے الیکٹرک کی جانب سے موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ علاقے سے بلوں کی وصولی میں کمی اور بجلی چوری کی وجہ سے عارضی بندش کی جاتی ہے تاہم صارفین کا موقف ہے کہ کے الیکٹرک اپنی نااہلی چھپانے کے لیے بل بروقت ادا کرنے والے صارفین کو بھی پریشان کررہی ہے ۔

بلوں کی وصولی اور بجلی چوری کی روک تھام کے الیکٹرک انتظامیہ کی ذمہ داری ہے لیکن وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے بل ادا کرنے والے اسٹار کسٹمرز کو بھی نشانہ بنارہی ہے ۔ اجتماعی سزا کا یہ کالا قانون کسی صورت قانونی نہیں ہے ، نیپرا نے بھی اس غیر قانونی اقدام سے چشم پوشی اختیار کررکھی ہے اور خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے ۔متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر بجلی دو سے تین روز تک مسلسل غائب رہی، جس کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام کو متنبہ کیا کہ شدید گرمی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث امن وامان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے ۔ یاد رہے کہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ابوالحسن اصفہانی روڈ پر طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف علاقہ مکین سڑکوں پر نکل آئے ، مشتعل مظاہرین نے دونوں اطراف سے روڈ بلاک کر دی جس کے باعث ٹریفک کی روانی معطل ہوگئی۔مظاہرین کا کہناتھا کہ شدید گرمی میں بچے ، خواتین اور بزرگ اذیت میں مبتلا ہیں۔دوسری جانب کے الیکٹرک نے 10 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بجلی کی بندش بعض علاقوں میں بلوں کی عدم ادائیگی اور تکنیکی وجوہات کی بنا پر کی جاتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں