شہری حکومتی پابندی ہوا میں اڑا کر ہاکس بے پہنچ گئے
دفعہ 144کے تحت پابندی ،ضلعی انتظامیہ عمل درآمد کرانے میں ناکام لاکھوں شہریوں کی زندگیاں 150نجی لائف گارڈز کے سپرد ہیں،ذرائع
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)شہری پابندی کو ہوا میں اڑا کر پکنک منانے ہاکس بے پہنچ گئے ہیں۔کراچی کی ساحلی پٹی میں نہانے پر پابندی کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد پکنک منانے ہاکس بے کا رخ کرلیا، سمندر میں نہانے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی لگائی گئی ہے ۔ضلعی انتظامیہ قانون پرعمل درآمد کرانے میں ناکام نظر آرہی ہے ۔رواں سال اب تک 45 افراد ڈوب کرجاں بحق ہوچکے ہیں، ساحل پر سرکاری طور پر لائف گارڈ تعینات نہیں۔ نجی لائف گارڈ موجود ہیں مگر اُن کے پاس لائف جیکٹ تک موجود نہیں ہے ۔ذرائع کے مطابق لاکھوں شہریوں کی زندگیاں 150 نجی لائف گارڈز کے سپرد ہیں۔ کراچی میں گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے تفریحی مقامات کا رخ کرنے والے دو مختلف خاندانوں پر پکنک اس وقت قیامت بن گئی جب ہاکس بے ساحل اور کورنگی ندی میں نہاتے ہوئے آٹھ افراد ڈوب گئے۔
واقعات کے نتیجے میں تین کمسن لڑکوں اور شہریوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، پہلا افسوسناک واقعہ کورنگی کراسنگ ندی کے قریب پیش آیا تھا۔ریسکیو حکام نے بتایا تھا کہ 10 سالہ سالار اور 12 سالہ فہد حسین اپنے دوستوں کے ساتھ ندی پر پکنک منانے آئے تھے ، ندی کے کنارے کھیلتے ہوئے دونوں بچے اچانک گہرے پانی میں چلے گئے ۔ غوطہ خوروں نے ایک گھنٹے کی طویل جدوجہد اور ریسکیو آپریشن کے بعد دونوں دوستوں کی لاشیں ندی سے نکال لیں۔کراچی مشہور ساحل ہاکس بے پر بھی ڈوبنے کے دو الگ الگ واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔