ابوالحسن اصفہانی روڈ پرگیس چوری کا نیٹ ورک بے نقاب

 ابوالحسن اصفہانی روڈ پرگیس چوری کا نیٹ ورک بے نقاب

ملزمان چوری شدہ گیس سے چلنے والے دو گیس جنریٹر استعمال کر رہے تھے جنریٹر سے 300فلیٹس اور 100دکانوں کو غیرقانونی بجلی فراہم کی جا رہی تھی

کراچی(سٹی ڈیسک)سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) نے گلشن ویو اپارٹمنٹ، ابوالحسن اصفہانی روڈ، گلزارِ ہجری، اسکیم 33 میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے گیس چوری کے منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا۔یہ کارروائی کاؤنٹر گیس تھیفٹ آپریشنز ٹیم نے کسٹمر ریلیشنز ڈپارٹمنٹ ڈومیسٹک تھیفٹ ونگ، ڈسٹری بیوشن ڈیپارٹمنٹ اور ایس ایس جی سی پولیس کے ہمراہ انجام دی۔ کارروائی کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان چوری شدہ گیس سے چلنے والے دو گیس جنریٹر استعمال کر رہے تھے ۔ موقع سے دو 33 کے وی اے اور ایک 41.3 کے وی اے گیس جنریٹر برآمد ہوئے ، جن کے ذریعے اپارٹمنٹ کمپلیکس کے تقریباً 300 فلیٹس اور 100 دکانوں کو غیرقانونی طور پر بجلی فراہم کی جا رہی تھی۔

ملزمان اس غیرقانونی بجلی کی فراہمی کے عوض صارفین سے تقریباً 20 ہزار روپے ایڈوانس جبکہ 2 ہزار روپے ماہانہ وصول کر رہے تھے ۔اس معاملے میں رحمت اللہ، حیات مسعود اور سلیم مسعود کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔کارروائی کے دوران سی جی ٹی او ٹیم نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ پلاسٹک والوز سے لیس گیس بیلون اسٹوریج کے تین یونٹس سے گیس لیک ہو رہی تھی، جو انتہائی خطرناک صورتحال پیدا کر رہی تھی اور کسی بھی وقت آگ لگنے یا بڑے دھماکے کا سبب بن سکتی تھی۔کارروائی کے دوران گیس چوری کے لیے استعمال ہونے والی تمام غیرقانونی پائپ لائنیں موقع پر ہی ہٹا دی گئیں، جبکہ غیرقانونی طور پر بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے جنریٹرز کو فراہم کی جانے والی تمام غیر مجاز گیس سپلائی بھی منقطع کر دی گئی۔ایس ایس جی سی اپنے صارفین سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ گیس چوری کے ایسے واقعات کی فوری اطلاع دیں، کیونکہ یہ خطرناک اور غیرقانونی آلات شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں