میٹرک امتحانات میں رشوت کی تحقیقات کا مطالبہ
بدعنوانی نہیں لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہےملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے ،حلیم عادل شیخ
کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کراچی بورڈ کے میٹرک امتحانات کے نتائج سے قبل مبینہ طور پر ایجنٹ مافیا کی سرگرمیوں اور فی پرچہ 12 ہزار روپے رشوت وصول کیے جانے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے انہوں نے کہا کہ اگر نتائج سے قبل پیپر پاس کرانے یا نمبر بڑھانے کے نام پر رشوت وصول کرنے کی اطلاعات درست ہیں تو یہ صرف بدعنوانی نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق بعض تعلیمی افسران بھی مبینہ طور پر اس غیرقانونی عمل میں ملوث ہیں، جبکہ محنتی اور ذہین طلبہ کو جان بوجھ کر فیل کر کے ان سے بھاری رقوم وصول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، جو پورے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان ہے ۔ حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ کراچی بورڈ کے چیئرمین، متعلقہ افسران اور مبینہ رشوت خور مافیا کے کردار کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے اور طلبہ و والدین کو انصاف فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی مبینہ غفلت کے باعث تعلیمی ادارے کرپشن کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، اس لیے حکومت اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے نظامِ تعلیم کو شفاف بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے ۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے خبردار کیا کہ اگر میٹرک کے نتائج میں کسی قسم کی دھاندلی، ردوبدل یا طلبہ کے ساتھ ناانصافی کی گئی تو پارٹی سندھ بھر میں احتجاج کرے گی اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔