رفاہی پلاٹ پرکمرشل سرگرمیاں کیس کا فیصلہ محفوظ

رفاہی پلاٹ پرکمرشل سرگرمیاں کیس کا فیصلہ محفوظ

پالپا نے اراضی ایک نجی ادارے کو کرائے پر دے رکھی ہے ، ایس بی سی اے کمرشل سرگرمیوں سے علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، درخواست گزار

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے رفاہی مقاصد کے لیے الاٹ کیے گئے پلاٹ پر مبینہ کمرشل سرگرمیوں کے خلاف دائر آئینی درخواست پر فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ سماعت کے دوران سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے عدالت میں اپنا جواب جمع کرایا۔ گزشتہ سماعت پر عدالت نے ایس بی سی اے کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ایس بی سی اے کی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کے ڈی اے نے 1981 میں کلفٹن میں پاکستان ایئر لائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) کو مذکورہ پلاٹ رفاہی مقاصد کے لیے الاٹ کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پالپا نے بھی یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ پلاٹ پر کسی قسم کی کمرشل سرگرمی انجام نہیں دی جائے گی، جبکہ اراضی صرف اسکول اور لائبریری کے قیام کے لیے دی گئی تھی۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پالپا نے رفاہی مقاصد کے لیے حاصل کی گئی اراضی ایک نجی ادارے کو کرائے پر دے رکھی ہے ، جہاں تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں، جو الاٹمنٹ کی شرائط اور قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ درخواست گزار کے مطابق رفاہی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں کے باعث علاقے کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، لہٰذا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو حکم دیا جائے کہ وہ تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرائے اور عمارت کو سیل کرے ۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...