بارش نے واسا کا پول کھول دیا، نشیبی علاقے زیرآب
سوشل میڈیا تالاب بنی سڑکوں اور گلیوں کی تصاویر اور ویڈیوز سے بھر گیا، ایم ڈی واسا لانگ بوٹ پہنے خود کو متحرک دکھانے کی کوشش کرتے رہے م شہری پریشان
فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر) گزشتہ روز ہونے والی بارش نے واسا فیصل آباد کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ مون سون سے قبل کیے گئے بلند و بانگ دعوے ، اجلاس، فیلڈ وزٹس، تصاویر اور ویڈیوز بھی شہریوں کو ریلیف نہ دے سکے ۔ چند گھنٹوں کی بارش نے شہر کے متعدد علاقوں کو پانی میں ڈبو دیا، جبکہ اہم شاہراہیں، چوراہے ، بازار اور رہائشی علاقے تالاب کا منظر پیش کرتے رہے ۔ شہری پانی میں راستے تلاش کرتے نظر آئے ، جبکہ سوشل میڈیا پر ایم ڈی واسا کی لانگ بوٹ پہنے تصاویر اور ویڈیوز زیرِ گردش رہیں۔بارش کے بعد شہر کے متعدد علاقوں میں نکاسیٔ آب کا نظام بری طرح متاثر ہو گیا۔ سڑکیں تالاب بن گئیں، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پانی میں بند ہوتی رہیں اور شہری شدید مشکلات سے دوچار رہے ، تاہم واسا کی جانب سے بروقت اور مؤثر کارروائی دکھائی نہ دی۔مون سون سے قبل نالوں کی صفائی، ڈی واٹرنگ مشینوں کی تیاری اور ہنگامی پلان کے دعوے کیے گئے تھے ، مگر بارش نے ان دعوؤں کی حقیقت آشکار کر دی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کا انفراسٹرکچر چند گھنٹوں کی بارش بھی برداشت نہیں کر پاتا اور اس نااہلی کی قیمت عوام کو اذیت، وقت کے ضیاع اور مالی نقصان کی صورت میں چکانا پڑتی ہے ۔شہریوں نے الزام عائد کیا کہ واسا کے اعلیٰ افسروں کی توجہ عملی کام کے بجائے تشہیری سرگرمیوں پر زیادہ مرکوز دکھائی دیتی ہے ۔
بارش کے بعد سوشل میڈیا تالاب بنی سڑکوں اور گلیوں کی تصاویر اور ویڈیوز سے بھر گیا، جبکہ شہریوں نے مختلف علاقوں کو دریاؤں کے نام دے کر طنزیہ پوسٹیں بھی شیئر کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈی واسا خود کو متحرک کرنے کے بجائے متحرک دکھانے کی کوشش کرتے رہے ۔شہریوں کے مطابق اگر نالوں اور سیوریج لائنوں کی بروقت صفائی، پمپنگ سٹیشنز کی مؤثر دیکھ بھال اور ہنگامی ٹیموں کی حقیقی معنوں میں نگرانی کی جاتی تو ہر بارش کے بعد فیصل آباد کو اربن فلڈنگ اور پانی کھڑا ہونے جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں سے منظرنامہ تبدیل نہیں ہوا، صرف دعوے بدلتے ہیں، نتائج نہیں۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واسا فیصل آباد کی کارکردگی کا آڈٹ کرایا جائے ، مون سون انتظامات کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہر بارش شہریوں کے لیے رحمت کے بجائے نئی آزمائش ثابت ہوگی اور اربن فلڈنگ سے مالی و جانی نقصانات کا خدشہ برقرار رہے گا ۔اس معاملے پر مؤقف جاننے کیلئے ایم ڈی واسا ثاقب رضا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی مؤقف نہیں دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments