بلدیاتی مسائل : نمائشی نہیں مستقل اقدامات ہونے چاہئیں ، ہائیکورٹ

بلدیاتی مسائل : نمائشی نہیں مستقل اقدامات ہونے چاہئیں ، ہائیکورٹ

قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکامی انتظامی غفلت تصور کی جائے گی، کھلے مین ہولزڈھانپنے ،سیوریج لیکیج،رکاوٹیں ختم کرنے اورسڑکوں کو صاف حالت میں رکھنے کا حکملیاقت آباد میں مسائل سے مکینوں کو شدیدمشکلات ،درخواست گزار،فیلڈاسٹاف نے علاقے میں صفائی کاگرینڈ آپریشن کیا،ڈائریکٹر،کچرااٹھاناشکایت کا ازالہ نہیں،عدالت

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے لیاقت آباد میں کھلے مین ہولز اور سیوریج کے مسائل کے خلاف درخواست پر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کو فوری اور مستقل اقدامات کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ لیاقت آباد میں کئی ماہ سے متعدد مین ہولز کے ڈھکن موجود نہیں جس کے باعث شہریوں کو مشکلات اور خطرات کا سامنا ہے ۔ وکیل کے مطابق کھلے مین ہولز اور سیوریج کا پانی سڑکوں پر بہنے سے علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ میئر کراچی، کے ایم سی اور دیگر متعلقہ اداروں کو شکایات کے باوجود مسائل حل نہیں کیے جارہے۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ اپریل اور اگست میں فیلڈ اسٹاف نے علاقے میں صفائی کا گرینڈ آپریشن کیا جس کے دوران کچرے کو ڈمپنگ سائٹ منتقل کیا گیا۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے کھلے مین ہولز کو ڈھانپنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عوامی ادارے اپنی قانونی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے پابند ہیں، شہریوں کی زندگی، صحت اور وقار کا تحفظ عوامی اداروں کی ذمہ داری ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے کچرا اٹھانے کے اقدامات درخواست گزاروں کی شکایت کا ازالہ نہیں ہیں۔ کھلے مین ہولز اور خراب سیوریج نظام فوری اور مسلسل خطرے کا باعث ہیں۔

عدالت نے متعلقہ بلدیاتی اداروں کو تمام کھلے مین ہولز مناسب طریقے سے ڈھانپ کر محفوظ بنانے ، سیوریج کی لیکیج اور رکاوٹیں ختم کرنے اور سڑکوں کو صاف حالت میں رکھنے کا حکم دیا۔ عدالت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ دوبارہ مسائل سے بچنے کے لیے باقاعدگی سے معائنہ کیا جائے ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکامی انتظامی غفلت تصور کی جائے گی۔ سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات نمائشی نہیں بلکہ مستقل ہونے چاہئیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں درخواست گزار مجاز اتھارٹی یا عدالت سے دوبارہ رجوع کرسکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...