وفاقی وزراء کے بیان صوبے کیخلاف سیاسی جارحیت ،صوبائی وزراء

وفاقی وزراء کے بیان صوبے کیخلاف سیاسی جارحیت ،صوبائی وزراء

خواجہ آصف کا بیان مایوس کن،ن لیگ اتحادیوں کو خوش کرے ،سندھ کو بکرا نہ بنائےمحسن نقوی حساسیت کو سمجھیں،سندھ کی وحدت پر سمجھوتا نہیں ہوگا،شرجیل،ناصر شاہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت واضح کرے کہ خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے ؟۔اپنے بیان میں شرجیل انعام میمن کاکہناتھا کہ وفاقی وزراء کی بیان بازی صوبے کے خلاف سیاسی جارحیت کے مترادف ہے ۔ خواجہ آصف سندھ اور پیپلز پارٹی پر بیان بازی سے پہلے تاریخ، آئین اور پارلیمانی ریکارڈ کا مطالعہ کریں،پیپلز پارٹی کا مؤقف دو رخی نہیں بلکہ دوٹوک، اصولی اور آئینی ہے، پنجاب اسمبلی سرائیکی صوبے کے حق میں دو مرتبہ جبکہ سندھ اسمبلی سندھ کے اندر مزید صوبے بنانے کے خلاف 8 مرتبہ قراردادیں منظور کر چکی ہے ،مسلم لیگ ن اپنے اتحادیوں کو خوش کرے ، لیکن سندھ کو قربانی کا بکرا بنانے سے گریز کرے ۔ ان کا مزید کہناتھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق کو مضبوط، آئین کو بالادست اور جمہوری نظام کو مستحکم کرنے کی سیاست کی ہے ،پاکستان کے وفاق اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پیپلز پارٹی اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔دوسری جانب وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صوبے انتظامی یونٹ نہیں بلکہ ان کی اپنی تاریخ، شناخت اور آئینی حیثیت ہے ، ایسے بیانات کی حساسیت کو سمجھا جانا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی سے بہتر حکمرانی، مؤثر نظام اور عوام کی سہولت کے لیے اصلاحات کی ضرورت پر اتفاق ہے تاہم انتظامی اصلاحات اور صوبوں کی تشکیلِ نو دو بالکل مختلف معاملات ہیں۔صوبوں کی حدود یا حیثیت میں تبدیلی کو صرف انتظامی ضرورت قرار نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا سوال محض ایک انتظامی تجویز نہیں بلکہ یہ سندھ کے عوام کے جذبات، تاریخ اور اجتماعی ارادے سے جڑا معاملہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے لیے ہر مثبت تجویز پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا، اگرعوام کی رائے کے احترام کی بات ہے تو سندھ کے عوام کی واضح اور مسلسل رائے کا بھی احترام ہونا چاہیے ۔ناصر شاہ نے کہا کہ صوبوں کو کمزور کرنے سے پاکستان مضبوط نہیں ہوگا، پاکستان مضبوط وفاق اور صوبوں کے درمیان آئینی ہم آہنگی، اختیارات کی منصفانہ تقسیم اور تمام اکائیوں کے حقوق کے تحفظ سے ہوگا۔

وزیر بلدیات نے مزید کہا کہ پاکستان کی سالمیت، مضبوطی اور استحکام ہماری لیے بہت اہم ہے ، محسن نقوی قابل احترام ہیں لیکن ان سے درخواست ہے کہ معاملے کی حساسیت اور اہمیت کو سمجھیں۔ علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی امتیاز شیخ نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق وفاقی وزراء کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کا خواب دیکھنے والوں کو سندھ کے عوام کی واضح اور دوٹوک رائے کا احترام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر وفاقی وزراء کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آچکا ہے ۔ امتیاز شیخ نے کہا کہ عوام کی رائے کو نظرانداز کرکے کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امتیاز شیخ نے کہا کہ وفاق چار صوبوں کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کر پا رہا، پندرہ صوبے بنا کر کیا دودھ کی نہریں نکالیں گے ؟ پندرہ صوبوں کا مطلب پندرہ وزرائے اعلیٰ، پندرہ کابینہ، نئی اسمبلیاں، نئے محکمے اور اربوں روپے کے اضافی انتظامی اخراجات ہیں، کیا پاکستان کی معیشت اس بوجھ کی متحمل ہوسکتی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...