حکومت کیخلاف احتجاج اپوزیشن کا آئینی وجمہوری حق، تنظیم اسلامی
دونوں شدت پسندی کی روش کوچھوڑ کرملک کی بھلائی کا سوچیں، شجاع الدینعالمی وعلاقائی حالات کے باعث ملک سیاسی افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا، گفتگو
دادو (نامہ نگار)حکومت کیخلاف پُرامن احتجاج کرنا اپوزیشن کا آئینی اور جمہوری حق ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں شدت پسندی کی روش چھوڑ کر ملک کی بہتری کے لیے سوچیں۔ عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں پاکستان کسی سیاسی افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان کہا کہ کسی بھی ملک کے استحکام اور سلامتی کیلئے سیاسی افراتفری اور خانہ جنگی زہرِ قاتل سے کم نہیں ہوتی۔ آئینِ پاکستان کے مطابق اپوزیشن کو پُرامن احتجاج کا مکمل حق حاصل ہے ۔ تاہم حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے کارکنان کی ملک بھر میں پکڑ دھکڑ، رینجرز کی تعیناتی اور اُنہیں تمام ضروری اقدامات کا اختیار دینا اور اسلام آباد کو کنٹینرز رکھ کر بند کر دینا جبر کی فضا کو بڑھا رہا ہے۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت کا صوبائی پولیس کے ذریعے دفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کا عندیہ دینا ریاستی اداروں کے ٹکراؤ کا باعث بنے گا، جس کا فائدہ ملک دشمنوں کے سوا کسی کو نہ ہوگا۔ امیر تنظیم نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو نفرتوں میں بدل کر اِسے حق و باطل کا معرکہ قرار دینا انتہا درجے کی شدت پسندی ہے ، جس سے ملکی سلامتی خطرے میں پڑسکتی ہے ۔ عالمی حالات کے تناظر میں جبکہ دشمن چاروں طرف سے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے ، حکومت اور اپوزیشن دونوں ملک پر رحم کریں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ اپنی انا اور ضد کو چھوڑ کر مذاکرات کے راستے کو اختیار کرے ۔ تمام اسٹیک ہولڈرز ملکر ملک کی بہتری کیلئے اقدامات کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments