غذائی قلت ، معاشی بدحالی صحت کیلئے سنگین، پی ایم اے
خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے کم آمدنی والے گھرانوں کی قوتِ خرید متاثرذہنی صحت اورغذائی تحفظ کے بحران سے نمٹنے کیلئے مربوط اقدامات ناگزیر
کراچی(این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے )نے عالمی یومِ خوراک کے موقع پر ملک میں بڑھتی ہوئی غذائی قلت، معاشی بدحالی اور ذہنی صحت کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی، غربت اور سماجی تنہائی کے باعث پیدا ہونے والی مایوسی صحتِ عامہ کیلئے سنگین خطرہ بن رہی ہے ۔ ایسوسی ایشن نے بن قاسم اور احسن آباد میں پیش آنے والے خاندانوں کی المناک ہلاکتوں کے واقعات پر بھی افسوس کا اظہار کیا ۔پی ایم اے کے مطابق عالمی یومِ خوراک اس سال آج جدت اپنائیں، کل کو غذائیت فراہم کریں ے عنوان سے منایا جا رہا ہے جس کا مقصد جدید سائنس اور زرعی جدتوں کے ذریعے پائیدار غذائی نظام کو فروغ دینا ہے ،تاہم پاکستان میں مہنگائی کے باعث غذائی تحفظ کی صورتِ حال تشویشناک ہے۔
ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں بھوک کی صورتحال جنوبی ایشیا میں افغانستان کے بعد دوسرے نمبر پر ہے ۔پی ایم اے کا کہنا ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور معاشی عدم استحکام نے متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کی قوتِ خرید متاثر کی ہے ۔ غذائی تحفظ، جسمانی صحت اور ذہنی صحت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، ان مسائل سے نمٹنے کیلئے مربوط اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 33 فیصد سے زائد نشوونما کی کمی کا شکار ہیں جبکہ غذائی قلت کے باعث بچوں کے جسمانی وزن میں کمی بھی تشویش کا باعث ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments