مغوی نوجوان کے قتل کا ڈراپ سین، کزن سمیت 2 ملزمان گرفتار
مقتول زین العابدین 14 اکتوبر کو پراسرار طور پر لاپتہ ہوا تھا، ملزمان نے تاوان کا مطالبہ کیا،خاندان نے 5لاکھ ادا بھی کیے تھے زین العابدین گزشتہ تین سال سے سعودی عرب میں سلائی کا کام کر رہا تھا ، کچھ ہی دنوں میں اسے واپس جانا تھا،ماموں کا بیان
کراچی(اسٹاف رپورٹر)اسٹیل ٹاؤن کے علاقے سے اغوا ہونے والے 23 سالہ نوجوان زین العابدین کے لرزہ خیز قتل کا ڈراپ سین، ملیر پولیس نے مقتول کے پھوپھی زاد بھائی سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق مقتول زین العابدین 14 اکتوبر کو پراسرار طور پر لاپتہ ہوا تھا، جس کے بعد ملزمان نے خاندان سے تاوان کا مطالبہ کیا۔ مغوی کے ماموں کے مطابق فیملی نے ملزمان کو 5 لاکھ روپے تاوان بھی ادا کر دیا تھا، تاہم سفاک ملزمان نے فیملی پر مزید تاوان کا دباؤ ڈالنے کے لیے نوجوان کا ہاتھ کاٹ کر مقتول کے گھر کے باہر پھینک دیا۔ملیر اسٹیل ٹاؤن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گلشن حدید سے دو ملزمان کو حراست میں لیا۔ گرفتار ملزمان میں مقتول کا کزن فیصل اور اس کا ایک دوست شامل ہیں، جن کا مقتول کے ساتھ قریبی تعلق تھا۔ دورانِ تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے نوجوان کو اغوا کے چند گھنٹوں بعد ہی قتل کر دیا تھا اور قتل کے بعد مزید تاوان وصول کرنے کے لیے اس کا ہاتھ کاٹ کر گھر کے باہر پھینکا تھا۔
گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر پولیس ٹیم کرائم سین کی جانب روانہ ہوئی اور سومار گوٹھ کے جنگل کے علاقے سے زین العابدین کی لاش برآمد کر کے قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دی۔مقتول کے ماموں کے مطابق زین العابدین گزشتہ تین سال سے سعودی عرب میں سلائی کا کام کر رہا تھا اور کچھ ہی دنوں میں اس کا واپسی کا ویزا لگنے کے بعد اس نے دوبارہ بیرون ملک جانا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتول کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی، اور ملزم فیصل انہی کی برادری سے تعلق رکھتا ہے ۔ انہوں نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے فوری انصاف فراہم کرنے اور سفاک قاتلوں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔مغوی نوجوان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا زین العابدین 14 اکتوبر کو موٹر سائیکل پر گھر سے نکلا تھا۔ جب گھر واپس نہ آیا اور کافی تلاش کے بعد بھی نہ ملا تو اسٹیل ٹاؤن تھانے میں اغوا کا مقدمہ درج کرایا۔والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا سعودی عرب میں درزی کا کام کرتا ہے ۔ اس کو اغوا کے بعد اغوا کاروں کا فون آیا اور 7 لاکھ روپے تاوان مانگا، جب ہم یہ رقم لے کر ان کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچے تو وہاں کوئی نہیں تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments