زین العابدین قتل کیس، رشوت لینے پر تفتیشی افسر معطل
مقتول کے والد کا انویسٹی گیشن افسر پر 22 ہزار روپے وصول کرنے کا الزامرہائی کیلئے5لاکھ تاوان دیا، بازیابی ممکن نہ ہوسکی، والد کی انصاف کی اپیل
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)شہر قائد کے علاقے اسٹیل ٹاؤن سے اغوا کے بعد سفاکیت سے قتل کیے گئے مقتول نوجوان زین العابدین کے والد کی شکایت پر اے وی سی سی پولیس کے انویسٹی گیشن افسر کو مبینہ طور پر رشوت وصول کرنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا۔مقتول نوجوان کے والد محمد خان نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کے انویسٹی گیشن افسر رضوان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مجھ سے مجموعی طور پر 22 ہزار روپے وصول کیے ہیں جس میں 2 ہزار روپے کھانے کے نام پر بھی لیے گئے ۔ا نہوں نے بتایا کہ ایک تو میرا بیٹا سفاکیت کے ساتھ اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تو دوسری جانب تفتیشی افسر کا رویہ انتہائی تکلیف کا باعث بنا۔ انہوں نے بتایا کہ تفتیشی افسر نے اب تک صرف 3 بار ملاقات کی ، تفتیشی افسر کی مبینہ عدم دلچسپی کے باعث ملزمان سے تاوان کی رقم اور دیگر اشیا بھی برآمد نہیں کرائی جاسکی۔
ا نہوں نے بتایا کہ جمعرات کو تفتیشی افسر کی غفلت و لاپروائی کی شکایت ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر سے کی تو ا نہوں نے انویسٹی گیشن افسر رضوان کو معطل کر کے نیا آئی او مقرر کیا ، تاہم نئے آئی او نے ابھی تک ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔مقتول نوجوان زین العابدین کے غمزدہ والد نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ اپنے لخت جگر کی رہائی کی خاطر 5 لاکھ روپے تاوان ادائیگی کے باوجود بھی میرا بیٹا بازیاب نہیں ہوسکا تھا جبکہ ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے بیٹے کے ہاتھ کا پنجہ بھی کاٹ کر بھیجا گیا۔ مقتول نوجوان کے والد محمد خان نے وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ سے اپیل کی ہے کہ ا نہیں انصاف فراہم کیا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments