حیدر آباد:سرکاری ادویات مبینہ مارکیٹ میں بیچنے کا انکشاف
پولیس اہلکاروں، نجی بیٹرز کی ملی بھگت شامل، بڑے پیمانے پر دھندا جاریملزمان کارگو گڈز ٹرانسپورٹ اڈوں سے ادویات، سمپل قبضے میں لیتے ، ذرائع
حیدرآباد (بیورورپورٹ)پولیس اہلکاروں اور نجی بیٹرز کی جانب سے سرکاری اسپتالوں کی ادویات اور غیر رجسٹرڈ سیمپل مبینہ مارکیٹ میں فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ یہ مکروہ دھندا مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر جاری ہے ، جس نے محکمہ پولیس کی کارکردگی پر شدید سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اہلکار اور پرائیویٹ بیٹرز شہر کے کارگو گڈز ٹرانسپورٹ اڈوں سے غیر رجسٹرڈ اور سرکاری اسپتالوں کے سیمپل کی قیمتی ادویات قبضے میں لے لیتے ہیں۔ قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اس برآمد شدہ مال کا کوئی باقاعدہ مقدمہ درج نہیں کیا جاتا، بلکہ ایڈوانی گلی کی ادویات مارکیٹ کے ایک نامعلوم شخص کی مبینہ ملی بھگت سے لاکھوں روپے کے عوض کھلے عام فروخت کر دیا جاتا ہے۔
مقامی بیوپاریوں اور تاجروں نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ٹرانسپورٹ کے ذریعے آنے والا مال واقعی غیر قانونی ہے ، تو اس کا باضابطہ مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ خاموشی سے مال غائب کر کے لاکھوں روپے کمانا صریحاً اختیارات کا ناجائز استعمال ہے ۔ دوسری جانب جب مارکیٹ تھانے کے بڑے منشی رشید ملاح سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام ذمہ داری نعمان اور اصغر کھوسو کی نگرانی پر ڈال دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments