پنجاب یونیورسٹی:45قیمتی درختوں کی کٹائی:پی ایچ اے کی تحقیقات میں انکشاف

پنجاب  یونیورسٹی:45قیمتی  درختوں  کی  کٹائی:پی ایچ اے  کی  تحقیقات  میں  انکشاف

جامن کے 15، شیشم کے 2، شہتوت کاایک ، پیپر ملبری 9، کچنار 2اور ایلسٹویٹنا کا ایک ایک درخت بھی کاٹا گیا شیخ زاید اسلامک سنٹر میں لگے درختوں کا وزن 433من ‘ کارروائی کی سفارش بھی کی جا سکتی :پی ایچ اے

لاہور (سٹاف رپورٹر سے‘ خبر نگار)پنجاب یونیورسٹی ، جہاں شیخ زاید اسلامک سنٹر سے درختوں کی کٹائی کا سنگین معاملہ سامنے آیا ۔تحقیقات کے مطابق قیمتی اور مقامی درخت بے دردی سے کاٹے گئے جس وزن 433من سے بھی زائد ہے ۔ ذرائع کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کے شیخ زاید اسلامک سنٹر سے درختوں کی کٹائی کا معاملہ محض چند درختوں تک محدود نہیں رہا۔پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ شیخ زاید اسلامک سنٹر سے مجموعی طور پر پینتالیس درخت کاٹے گئے ۔جامن کے پندرہ درخت، شیشم کے دو درخت اور شہتوت کا ایک درخت کاٹا گیا۔اسی طرح پیپر ملبری کے نو درخت، کچنار کے دو درخت اور دریک کے دو درخت بھی کٹائی کی زد میں آئے ۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گاب کے چار درخت، تن کے چار درخت جبکہ آم اور ایلسٹویٹنا کا ایک ایک درخت بھی کاٹا گیا۔ذرائع کے مطابق ان درختوں کی عمر دس سال سے پچیس سال کے درمیان تھی، یعنی یہ درخت مکمل نشوونما کے مرحلے میں تھے ۔ رپورٹ کے مطابق شیخ زاید اسلامک سنٹر سے کٹنے والے درختوں کا مجموعی وزن چار سو تینتیس من سے زائد ہے ،جو اس کارروائی کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے ۔ماضی میں بھی پنجاب یونیورسٹی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں درختوں کی کٹائی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں،تاہم ذمہ داروں کے تعین اور عملی کارروائی کے دعوے اکثر فائلوں تک محدود رہے ۔پی ایچ اے حکام کے مطابق اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی کا جائزہ لیا جا رہا ہے ،جبکہ ماحولیاتی قوانین کے تحت ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی سفارش بھی کی جا سکتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں