بسنت :شہر میں48لاکھ موٹر سائیکل سیفٹی راڈز لگیں گے
پتنگ ڈور کی ڈیمانڈ پر دوسرے صوبوں سے سپلائی منگوانے کی اجازت پر غور
لاہور (عمران اکبر )سرکاری اعدادوشمار کے مطابق شہر میں 48لاکھ موٹر سائیکل سیفٹی راڈز لگائے جائینگے ، 10 لاکھ سیفٹی راڈز کا خرچ سرکار برداشت کرے گی اور 38لاکھ سول سوسائٹی ،یونینز کے ذریعے لگوائے جائینگے ، کمشنر نے فیصلہ کر دیاجبکہ پتنگ ڈور کی ڈیمانڈ پر دوسرے صوبوں سے سپلائی منگوانے کی اجازت پر غور جاری ہے ۔ شہر میں بسنت پر پتنگ ڈور مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ،پتنگ ڈور مینوفیکچرز نے کمشنر سے دوسرے صوبوں سے پتنگ ڈور منگوانے کی استدعا کر دی ۔چیئرمین ایسوسی ایشن میاں شکیل کاکہناہے کہ پتنگ ڈور کی ڈیمانڈ زیادہ ہے اگر آسمان پتنگوں سے بھرنا ہے تو اجازت دی جائے جبکہ کمشنر کا کہنا ہے کہ اس ڈیمانڈ کو مد نظر رکھ کر دوسرے صوبوں سے ڈور پتنگ منگوانے پر اعدادوشمار اکٹھے کئے جارہے ہیں ، معاملے کونمٹادیا جائے گا ۔ انتظامی دفاترکے موٹرسائیکلز پر بھی حفاظتی راڈز لگانے میں تیزی، کمشنر مریم خان نے ڈویژنل دفتر کے موٹرسائیکلز پر سیفٹی راڈز لگانے کا جائزہ لیا۔دوسری جانب شہر میں موٹر بائیکرز کی سیفٹی کیلئے خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں۔شہر میں 100 کیمپس سے روزانہ 50ہزار تا 60ہزار موٹر سائیکلز پر سیفٹی راڈز لگائے جارہے ہیں۔ کیمپس سے حکومت پنجاب کے تحت 10 لاکھ سے زائد سیفٹی راڈز موٹرسائیکلز پرمفت لگائے جارہے ہیں۔نجی کمپنیاں بھی فری راڈز لگا رہی ہیں۔