لٹریری فیسٹیول میں جون ایلیا کی شاعری ،فکر پر سیشن
جون ایلیا کی شاعری بامعنی فکری روایت کا حصہ،ناصر عباس ، فاطمہ حسن ،شائستہ حسن
لاہور (اے پی پی)لاہور لٹریری فیسٹیول کے تحت الحمرا میں جون ایلیا کی شاعری:زمین سے جڑی بے تکلف فکر کے موضوع پر سیشن ہوا۔جون ایلیا کی شاعری کو محض غم یا شخصی کرب کے اظہار کی بجائے سماج سے مکالمہ کرنیوالی فکری روایت کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔ نامور ادیب و نقاد ناصر عباس نیر، ممتاز شاعرہ فاطمہ حسن اور شائستہ حسن نے بطور پینلسٹس شرکت کی، نظامت ڈاکٹر صغریٰ صدف نے کی۔ مقررین نے جون ایلیا کے منتخب اشعار کے حوالے دیکر انکی شاعری کی فکری، سماجی اور انسانی پرتیں سامعین کے سامنے رکھیں۔ ناصر عباس نیر نے کہا جون ایلیا کی شاعری کسی پیچیدہ یا گنجلک فلسفے کی مرہونِ منت نہیں بلکہ یہ بے لاگ، غیر مبہم فکری عمل ہے جو سماجی جمود، فکری منافقت اور مسلمہ سچائیوں پر سوال اٹھاتا ہے ۔
جون ایلیا جدید انسان کی ذہنی کیفیت اور تاریخی بے سمتی کو نہایت سادہ مگر بے رحم سچائی کیساتھ بیان کرتے ہیں۔فاطمہ حسن نے کہا جون ایلیا کی شاعری میں دکھ یا بے چینی رومانوی کیفیت کا نام نہیں بلکہ انسانی رشتوں، سماجی رویوں اور داخلی سچائیوں کی دیانتدار تصویر ہے ۔ یہی صداقت جون ایلیاکو عالمی سطح پر قابلِ مطالعہ شاعر بناتی ہے ۔ انکی شاعری ماضی اور حال کے سماجی تجربات کو جوڑتی ہے ، انکی فکر کسی خاص زمانے یا جغرافیے تک محدود نہیں بلکہ انسانی صورتحال سے جڑی ہوئی ہے ، اسی لیے انکی شاعری آج کے قاری سے بھی اسی شدت سے مکالمہ کرتی ہے ۔ صغریٰ صدف نے کہا جون ایلیا کی شاعری ہمیں خود فریبی سے نکلنے اور سماجی سچائیوں کا سامنا کرنے کی دعوت دیتی ہے ۔سوال و جواب کا مرحلہ بھی ہوا۔مقررین کے مدلل جوابات نے مزید واضح کیا کہ جون ایلیا کی شاعری سادہ مگر عالمی سطح پر بامعنی فکری روایت کا حصہ ہے ۔