ایلیویٹڈ ایکسپریس وے منصوبہ ایک بار پھر غیر یقینی کاشکار
ٹریفک دباؤ کا حل قرار منصوبہ متعددبار دعوئوں کے باوجود شروع نہ ہوسکا
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )لاہور کے بڑھتے ٹریفک دباؤ کا حل قرار دیا جانیوالا ایلیویٹڈ ایکسپریس وے منصوبہ ایک بار پھر غیر یقینی کاشکار ، ماضی میں متعدد بار اس میگا پراجیکٹ کو شروع کرنے کے دعوے کیے گئے ، ڈیزائن بدلے گئے ، الائنمنٹس تیار ہوئیں مگر تعمیراتی سرگرمی کا آغاز نہ ہو سکا۔تازہ پلان کے مطابق ایکسپریس وے کو ہوم اکنامکس کالج کی بجائے گلبرگ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ سے شروع کر کے بند روڈ بابو صابو تک لے جانے کی تجویز دی گئی۔ روٹ 47 کو بھی اس کوریڈور سے منسلک کرنے کا خاکہ تیار ہوا تاہم یہ تجاویز فائلوں سے آگے نہ بڑھ سکیں۔مجوزہ الائنمنٹ کے تحت کینال روڈ سے براستہ پی آئی سی فلائی اوور شادمان، وہاں سے ایل او ایس نالہ، جہانگیر پارک بس سٹیشن، ملتان روڈ بس سٹیشن، گلشن راوی مین بلیوارڈ اور بند روڈ سے ہوتے بابو صابو تک ٹریک تعمیر ہونا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ کوریڈور شہر کے مرکزی حصوں میں ٹریفک کا بہاؤ بہتر بنا سکتا ہے مگر منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔وزیراعظم کی ہدایت پر 2015 سے 2017 کے منصوبوں کو دوبارہ فعال کرنے کے اعلان پر ایکسپریس وے پر پھر کام شروع کرنے کیلئے محکمہ ہاؤسنگ نے وزیر اعلیٰ کو سمری بھی ارسال کی تاہم حکومتی ترجیحات میں جگہ نہ ملنے پریہ تجویز بھی عملی اقدامات میں تبدیل نہ ہو سکی۔ لاہور کے باسی ٹریفک کے دباؤ سے نجات کیلئے ٹھوس اقدام کے منتظر ہیں۔