سانحہ بھاٹی گیٹ کے بعد ترقیاتی منصوبوں میں بڑا ڈیڈ لاک
شہر میں نئے منصوبے روکدیئے گئے ،پرانے منصوبوں پر حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کا عمل جاری ، تعمیراتی سرگرمیاں محدود
لاہور (شیخ زین العابدین )سانحہ بھاٹی گیٹ کے بعد لاہور کے ترقیاتی منصوبوں میں بڑا ڈیڈ لاک پیدا ،نئے منصوبے روکدیئے گئے جبکہ زیر تعمیر سکیموں کی رفتار سست ہو گئی ۔فنڈز اجرا میں تاخیر اور سخت حفاظتی اقدامات نے کام متاثر کیا۔شہر میں جاری اربوں کے منصوبے غیر یقینی صورتحال کا شکار ،ذرائع کے مطابق سانحہ بھاٹی گیٹ کے بعد شہرمیں ترقیاتی سرگرمیوں کو بڑا دھچکا لگا ہے ۔ شہر میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں میں واضح ڈیڈ لاک پیدا ہو چکا ہے ۔نئے منصوبوں کا آغاز روک دیا گیا ،زیر تعمیر منصوبوں پر بھی کام کی رفتار سست ہو گئی ہے ۔ حکام کی تمام تر توجہ تعمیراتی پیشرفت کی بجائے حفاظتی اقدامات پر مرکوز ہے ۔متعدد مقامات پر پرانے منصوبوں پر صرف حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کا عمل جاری ہے جبکہ عملی تعمیراتی سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں۔
کنٹریکٹرز نے بھی اضافی حفاظتی شرائط اور مالی غیر یقینی صورتحال پر کام کی رفتار کم کر دی ہے ۔فنڈز اجرا میں تاخیر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ سانحہ بھاٹی گیٹ کے بعد متعدد منصوبوں کے فنڈز جاری نہ ہو سکے جس سے پیشرفت رک گئی ۔شہر میں نئے واٹر ٹینک ،سڑکوں کی کارپٹنگ کا منصوبہ تاخیر کا شکار جبکہ سرکلر روڈ پر تعمیراتی کام کا آغاز تاحال نہ ہو سکا۔ٹیپا کا مال روڈ اپ گریڈیشن کا منصوبہ،ایم اے او کالج سے وائے ایم سی اے ،وائے ایم سی اے سے استنبول چوک،استنبول چوک سے کچہری تک روڈ اپ گریڈیشن بھی شروع نہ ہو سکی۔ نیلا گنبد پارکنگ پلازہ، ریلوے سٹیشن و بھاٹی گیٹ اپ گریڈیشن اور ناصر باغ پارکنگ پلازہ سمیت دیگر منصوبوں کے فنڈز کا اجرا بھی رک چکا ہے ۔شہر میں جاری اربوں کے منصوبے اسوقت غیر یقینی کا شکار ہیں اور لاہور کی مجموعی ترقیاتی کی رفتار کو بڑا دھچکا لگا ہے ۔