51سال:شہر میں صرف56پیدل پل تعمیر:سڑک پار کرنا آج بھی غیر محفوظ
ماضی کے 3ادوارِ حکومت میں 5پل ہی بن سکے ،سگنل فری کوریڈورز بھی پیدل چلنے والوں کیلئے سہولیات سے محروم
لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور میں پیڈیسٹرین پل تاحال ترجیحات میں شامل نہ ہو سکے ۔51 برسوں میں صرف 56 پل تعمیر ہو سکے جبکہ شہر کی ضروریات کہیں زیادہ ہیں۔اربوں کے منصوبوں کے باوجود پیدل چلنے والوں کیلئے مختص فنڈ مکمل استعمال نہ ہو سکے ۔لاہور میں سڑک پار کرنا آج بھی غیر محفوظ ہے ۔اگرچہ حکومت پیڈیسٹرین زونز کے قیام پر توجہ دے رہی ہے تاہم نئے پلوں کا کوئی بڑا منصوبہ شروع نہ ہو سکا۔ایل ڈی اے نے 51 سال میں شہر میں 56 پیدل پل تعمیر کیے ۔ سروے کے مطابق ایل ڈی اے کنٹرولڈ ایریا کی 68 مرکزی شاہراہوں پر مزید پلوں کی ضرورت ہے ۔ادارے نے مزید پل تعمیر کرنے کا فیصلہ تو کیا تاہم عملدرآمد کی رفتار سست رہی۔ حال ہی میں 10 نئے پیدل پلوں کا منصوبہ بنایا گیا مگر ادرہ مختص بجٹ مکمل استعمال نہ کر سکا۔ 10 کروڑکی سکیم میں سے 5 کروڑ 70 لاکھ 18 ہزار خرچ ہی نہ ہو سکے ۔
نتیجتاً صرف ایک پل تعمیر ہو سکا۔ کینال روڈ پر 3 ، فیروزپور روڈ پر دو پیدل پلوں کا کام زیر التوا ہے ۔ شہر میں نئے سگنل فری کوریڈورز بھی پیدل چلنے والوں کیلئے سہولیات سے محروم ہیں۔رواں مالی سال ایل ڈی اے نے پیدل پلوں کیلئے 40 کروڑ مختص کیے ،ابتدائی طور پر 10 پل بنانے کا اعلان کیا تاہم ماضی کے 3 ادوارِ حکومت میں صرف 5 پل تعمیر ہو سکے ۔سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار دور میں جناح ہسپتال کے سامنے پیدل پل پنا۔ بعد ازاں اللہ ہو چوک، وحدت روڈ اور میاں پلازہ جوہر ٹاؤن سمیت چند مقامات پر مزید پل تعمیر کیے گئے مگر شہر کی بڑھتی آبادی اور ٹریفک کے مقابلے میں یہ اقدامات ناکافی ہیں۔شہر میں روزانہ لاکھوں افراد سڑک عبور کرتے ہیں ، جدید شہری منصوبہ بندی میں پیدل چلنے والوں کی سلامتی اب بھی پس منظر میں نظر آتی ہے ۔