ترمیمی آرڈیننس جاری، 9715 قبضہ کیسز نمٹانے کا فیصلہ

ترمیمی  آرڈیننس جاری، 9715 قبضہ کیسز نمٹانے کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ کے قبضہ مافیا کیخلاف احکامات جاری،التوا کا شکار اراضی کیسز پر پیشرفت شروع ،48ٹربیونل کے سپرد،لاہور ڈویژن میں2482درخواستیں غیر قانونی قبضہ کے جرم پر 5سے 10سال سزا کے علاوہ 10ملین روپے تک جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا نفاذ،کیسز ٹربیونل کو بھجوائے جائینگے ، 1ماہ میں فیصلے کا پابند

لاہور (عمران اکبر )وزیر اعلیٰ پنجاب نے ترمیمی آرڈیننس اجرا کے بعد قبضہ مافیا کیخلاف احکامات جاری کر دیئے ،ترمیمی آرڈیننس 2026کے تحت صوبہ بھر میں التوا کا شکار 9ہزار 7سو 15 زمینوں کے کیسز پر پیشرفت شروع کرنے کا فیصلہ، پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ امووایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کا ترمیمی آرڈیننس2026جاری ،دستاویزات کے مطابق صوبہ بھر میں قابضین کیخلاف آرڈیننس کے تحت 15ہزار 702 درخواستیں موصول ہوئیں۔ 4ہزار 62درخواست دہندگان کو قابضین سے چھٹکارا دلوا دیا گیا۔

صوبہ بھر سے موصول 1ہزار 3جائیدادوں کے کیسز کو مسترد کیا گیا۔8سو 74 درخواستیں غیر متعلقہ قرار دی گئیں،کل 15ہزار 702درخواستوں میں سے 48کیسز ٹربیونل کے سپرد،لاہور ڈویژن میں 2ہزار4 سو 82 جائیدادوں کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ آرڈیننس اجراکے بعد تنازعات حل کمیٹی کی جگہ سکروٹنی کمیٹی قائم جس میں ڈی سی، ڈی پی او، اے ڈی سی آر، اے سی، ایس ڈی پی او کے علاوہ سرکل ریوینو افسر اور پولیس سٹیشن انچارج افسر کا اضافی چارج مقرر،غیر قانونی قبضے کے جرم میں 5سے 10سال سزا کے علاوہ 10ملین  روپے تک جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا نفاذ ہو گا۔جھوٹی شکایت پر5 لاکھ جرمانے کیساتھ 5 سال تک سزا کا اضافہ کیا گیا،گزشتہ قانون میں شکایات نمٹانے کیلئے کمیٹی کے سامنے پیش کی جاتی تھیں تاہم اب شکایت حاضر سروس ججز پر مبنی ٹربیونل کے سامنے فائل کی جائیگی۔

ٹربیونل 3دن کے اندر شکایت سکروٹنی کمیٹی کو رپورٹ کرنے کیلئے بھیجنے کا پابند ہوگا،سکروٹنی کمیٹی 30دن کے اندر رپورٹ جمع کرائے گئی ۔پہلے قانون میں یہ مدت کمشنر کی اجازت سے مزید 90 دن آگے کی جاسکتی تھی، ٹربیونل 30دن میں فیصلہ کرے گا جبکہ پہلے یہ معیاد 90دن تھی،مذکورہ آرڈیننس کے تحت ٹربیونل کو ایک ہی مقدمے میں جرائم کی سماعت کرنے کا اختیار دیا گیا ، ڈپٹی کمشنر کی بجائے ٹربیونل کو حفاظتی اقدامات اٹھانے کا اختیار دیا گیا، آرڈیننس اجرا کے بعد حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز ٹربیونل کے ممبر ہونگے جبکہ پہلے ہائیکورٹ اور سیشن کورٹ کے ریٹائرڈ ججز ممبر تھے ۔ نئے آرڈیننس کے تحت التوا کا شکار قابضین کیخلاف کیسز ٹربیونل کو بھجوائے جائیں گے جہاں ٹربیونل ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا پابند ہو گا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں