ایل ڈی اے ریکارڈ کی یکجائی کا عمل سست روی کا شکار
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )ایل ڈی اے میں ریکارڈ کی یکجائی کا عمل سست روی کا شکار ، ڈائر یکٹریٹ آف ریکارڈ مینجمنٹ نے جدید کمپیوٹرائزڈ بیسمنٹ میں مرکزی ریکارڈ سنٹر قائم کیا لیکن بیشتر ونگز اپنا ڈیٹا فراہم نہیں کررہے ۔
خصوصی طور پر ٹاؤن پلاننگ ونگ نے اہم نقشے اور کمپلیشن سرٹیفکیٹس کا ریکارڈ منتقل نہیں کیا جس سے مرکزی ڈیٹا بیس ادھورا ہے ۔اسی طرح انجینئرنگ ونگ نے ترقیاتی منصوبوں کے مکمل ریکارڈ کو نئے سسٹم کے حوالے نہیں کیا جبکہ ایڈمن، فنانس اور ریونیو شعبے کی فائلیں بھی ڈی آر ایم کے ڈیٹا بیس میں شامل نہ ہو سکیں۔ہیڈکوارٹرز کا اہم ریکارڈ بھی منظم انداز میں منتقل نہیں ہوا۔بیسمنٹ میں موجود کمپیوٹرائزڈ سسٹم فعال ہے ،انٹری و اخراج کا نظام بنایا گیالیکن فائلوں کی عدم موجودگی پر ڈیجیٹل ڈھانچہ مکمل نہ ہو سکا۔ڈائریکٹوریٹ کا مقصد تمام دستاویزات کو ایک چھت تلے لانا اور ریکارڈ کی شفافیت کو یقینی بنانا تھالیکن اندرونی اختیارات کی اجارہ داری اور شعبہ جاتی خودمختاری نے اس مقصد کو مشکل بنا دیا ہے ۔نتیجتاً ریکارڈ کے بکھرے ہوئے نظام نے ایل ڈی اے میں شفافیت، بروقت جوابدہی اور موثر انتظام کی دعوئوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔