ڈرینز کی صفائی رپورٹس،حقائق برعکس،غلاظت موجود

ڈرینز کی صفائی رپورٹس،حقائق برعکس،غلاظت موجود

گلبرگ، کھاڑک کی ڈرینز میں گندگی جمع ہونے پر ملحقہ آبادیوں میں سیوریج مسائل سر اٹھانے لگے ، نکاسیٔ آب نظام متاثر، شہریوں کو تعفن کا سامنا واسا رپورٹس میں مکمل ڈیسلٹنگ ظاہر ،شہرکے نکاسیٔ آب نظام میں خامیاں آئندہ مون سون کیلئے خطرے کی گھنٹی ، ماہرین کاشفاف مانیٹرنگ پرزور

لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور میں نکاسیٔ آب کے دعوے ایک بار پھر سوالوں کی زد میں ،واسا کی ڈرینز صفائی رپورٹس اور زمینی حقائق میں واضح تضاد سامنے آگیا۔مرکزی گلبرگ ڈرین اور کھاڑک ڈرین گندگی سے اٹی پڑی ہیں جبکہ کاغذات میں مکمل ڈیسلٹنگ ظاہر کی گئی۔روزنامہ دنیا سروے کے مطابق لاہور میں سیوریج و نکاسیٔ آب کے بڑے دعوؤں کے باوجود اہم ڈرینز کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے ۔ واسا کے شعبہ آپریشن اینڈ مینٹیننس کی جانب سے شہر بھر کے بڑے نالوں کی ڈیسلٹنگ مکمل ہونے کی رپورٹس جمع کرائی گئیں تاہم زمینی صورتحال ان دعوؤں کی نفی کرتی دکھائی دیتی ہے ۔شہر کی اہم نکاسیٔ آب گزرگاہ گلبرگ ڈرین اس وقت جگہ جگہ کچرے اور سلٹ سے بھری ہوئی ہے ۔ نالے کے اندر جمع ملبہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بن رہا ہے جس سے ملحقہ آبادیوں میں سیوریج مسائل سر اٹھانے لگے ہیں۔

مختلف بلاکس میں نکاسیٔ آب کا نظام متاثر ہونے سے شہریوں کو تعفن کا سامنا ہے ۔اسی طرح کھاڑک ڈرین میں بھی تاحدِ نگاہ گندگی کے ڈھیر موجود ہیں جو نشاندہی کرتے ہیں کہ طویل عرصے سے موثر صفائی نہیں کی گئی۔ اگرچہ مون سون کے دوران واسا انتظامیہ نے سال بھر ڈیسلٹنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا مگر بارشوں کا سلسلہ ختم ہوتے ہی یہ عزم مدہم پڑ گیا۔دستاویزی رپورٹس میں تمام بڑی ڈرینز صاف قرار دی گئیں لیکن عملی طور پر سلٹ کی موٹی تہہ پانی کے بہاؤ کو متاثر کر رہی ہے ۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت صفائی نہ کی جائے تو معمولی بارش بھی نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کا باعث بن سکتی ہے ۔نکاسیٔ آب نظام میں یہ خامیاں نا صرف شہری زندگی کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ آئندہ مون سون کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زمینی حقائق کی بنیاد پر شفاف مانیٹرنگ کی جائے اور ذمہ داران کا تعین کر کے موثر اصلاحی اقدامات کیے جائیں تاکہ لاہور کو بارشوں کے موسم میں پھر مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں