افسروں کوگاڑیوں کیلئے بلا سودقرض پالیسی پرشدید ردعمل

 افسروں کوگاڑیوں کیلئے بلا سودقرض پالیسی پرشدید ردعمل

پیسی کے وسائل کو ورکرز کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے :مزدور تنظیمیں

لاہور(عاطف پرویز سے )پنجاب ایمپلائیز سوشل سکیورٹی انسٹیٹیوشن (پیسی)میں کمشنر اور وائس کمشنر ودیگر افسروں کو ایک کروڑ سے زائد مالیت کی گاڑیوں کیلئے بلا سود قرض دینے کی پالیسی سامنے آتے ہی مزدور حلقوں کاشدید ردعمل ، ورکرز نمائندوں نے اسے وسائل کا غلط استعمال قرار دیتے کہا ہے کہ ایک طرف ہسپتالوں میں ادویات اور مشینری کی کمی ہے ، دوسری جانب افسروں کیلئے مہنگی گاڑیوں کی سکیمیں شروع کی جا رہی جبکہ کچھ عرصہ قبل ہی افسروں کیلئے فیلڈ ورک کے نام پر 1800 سے 2000 سی سی تک کی نئی گاڑیاں خریدی گئی تھیں، اسکے باوجود مزید مراعات دینا سوالیہ نشان ہے ۔ورکرز نمائندوں کا کہنا ہے کہ ادارے میں مزدوروں کیلئے ایسی کسی قرض اسکیم کا اجرا نہیں کیا گیا جبکہ پیسی کے تحت ہسپتالوں میں ادویات قلت، جدید مشینری کی کمی اور دیگر سہولیات کا فقدان بدستور برقرار ہے ۔مزدور تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور پیسی کے وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر ورکرز کی صحت اور فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جائے ۔ دوسری جانب پیسی گورننگ باڈی کی سابق رکن آئمہ محمود کاکہناہے کہ ورکرز کی بہبود پر اخراجات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ وسائل کا رخ مزدوروں کو سہولیات فراہمی کی جانب موڑا جائے ۔اس حوالے سے پیسی کے کمشنر ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی تمام افسروں کیلئے نہیں بلکہ مخصوص کیڈر پر لاگو ہوگی اور جو بھی افسر ادارے میں تعینات ہونگے ، وہ قواعد کے مطابق اس سہولت سے استفادہ کر سکیں گے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں