واسا کی انتظامی توسیع فائلوں ، اجلاسوں سے آگے نہ بڑھ سکی
انتظامی تبدیلیوں کیلئے کیس جلد گورننگ باڈی میں پیش کیا جائے گا:انتظامیہ
لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام،شہر کو جدید انفراسٹرکچر اور بہتر شہری سہولیات دینے کا وہ بڑا منصوبہ، جس کے تحت نہ صرف نئی سڑکیں، سیوریج لائنیں اور ڈرینج سسٹم تعمیر کیے گئے بلکہ واسا کے دائرہ اختیار میں بھی تاریخی توسیع کا فیصلہ کیا گیا، منصوبے کے مطابق جی ٹی روڈ، باٹاپور، جلو، گجومتہ، پرانا کاہنہ، نیاز بیگ، حاجی کوٹ، نین سکھ اور شاہدرہ سمیت متعدد آبادیوں کو واسا سروس ایریا میں شامل کیا جانا تھا،پلان یہ تھا کہ واسا کا زیر انتظام رقبہ دو سو اڑتالیس مربع کلو میٹر سے بڑھا کر تین سو اسی مربع کلو میٹر تک لے جایا جائیگا، جبکہ مزید 15لاکھ 50 ہزار شہریوں کو باقاعدہ سیوریج اور واٹر سپلائی نیٹ ورک فراہم کیا جائے گا،لیکن صورتحال یہ ہے کہ ایل ڈی پی فیز ون مکمل ہو چکا، فیز ٹو کا اٹھانوے فیصد کام بھی مکمل ہونے کے قریب ہے ، مگر واسا کی انتظامی توسیع اب تک فائلوں اور اجلاسوں سے آگے نہ بڑھ سکی ۔دوسری جانب واسا انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ انتظامی تبدیلیوں کیلئے کیس جلد گورننگ باڈی میں پیش کیا جائے گااور گورننگ باڈی سے منظوری ملنے کے بعد نئی انتظامی اور آپریشنل تبدیلیوں پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔