ہائیکورٹ تفتیشی رپورٹ میں لڑکی کی عمر بارے تضاد پر برہم
جب لڑکی کے والد نے عمر 18سال بتائی تو تفتیشی نے 15 سال کیوں لکھی؟عدالت ڈی پی او شیخوپورہ کو 19 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت دینے کا حکم
لاہور( کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کرنے والے شہری کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر تفتیشی افسر کی رپورٹ میں لڑکی کی عمر سے متعلق تضاد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او شیخوپورہ کو انیس اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جب لڑکی کے والد نے اس کی عمر اٹھارہ سال بتائی تو تفتیشی افسر نے رپورٹ میں پندرہ سال کیوں درج کی؟لاہور ہائیکورٹ میں شہری نوید احمد کی جانب سے پسند کی شادی کے بعد درج مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس شہرام سرور چودھری نے درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے غلط رپورٹ پیش کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ لڑکی کے والد نے اپنے بیان میں اس کی عمر اٹھارہ سال بتائی ہے تو تفتیشی افسر نے رپورٹ میں عمر پندرہ سال کیوں لکھی؟ کیا تفتیشی افسران اسی طرح رپورٹس مرتب کرتے ہیں؟عدالت نے ڈی پی او شیخوپورہ کو انیس اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت دینے کا حکم دے دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments