گلبرگ کی ری کلاسیفکیشن ، نیسپاک کی لینڈ یوز سٹڈی تعطل کا شکار

گلبرگ کی ری کلاسیفکیشن ، نیسپاک کی لینڈ یوز سٹڈی تعطل کا شکار

مجوزہ پلان پر عملدرآمد سے ساڑھے 3ہزار پلاٹس سے کمرشل فیس وصول کی جاناتھی

لاہور (سٹاف رپورٹر سے )صوبائی دارالحکومت کے علاقہ گلبرگ کی ری کلاسیفکیشن کیلئے نیسپاک کی جانب سے د وسال سے جاری لینڈ یوز سٹڈی کامنصوبہ تعطل کا شکار ،نہ سٹڈی مکمل ہوئی اور نہ ہی ایل ڈی اے کے اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کی جاسکی۔مجوزہ پلان کے تحت گلبرگ میں بلیو، لائٹ پنک، ڈارک پنک اور براؤن کیٹیگریز متعارف کرانے کی تجویز تھی۔ بلیو کیٹیگری میں ہر قسم کی کمرشل سرگرمیوں، لائٹ پنک میں پچاس فٹ جبکہ ڈارک پنک میں ستر فٹ تک عمارتوں کی اجازت دینے پر غور کیا جارہا تھا۔ ان دونوں کیٹیگریز میں دفاتر، تعلیمی اداروں اور طبی مراکز کے استعمال کی بھی گنجائش تجویز کی گئی تھی۔براؤن کیٹیگری میں رہائشی پلاٹس اور اپارٹمنٹس کا استعمال برقرار رکھنے کی تجویز ہے ۔ گلبرگ تھری کے بی تھری، اے ون، اے ٹو اور اے تھری سمیت جی، ایچ اور کے بلاکس، گلبرگ ٹو کا بلاک بی اور گلبرگ فائیو بھی اس کیٹیگری میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ گزشتہ ری کلاسیفکیشن میں گلبرگ فائیو کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔مجوزہ تبدیلیوں سے گلبرگ کے ساڑھے تین ہزار پلاٹس کمرشل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا جبکہ براؤن کیٹیگری کے پلاٹس سے بھی کمرشل فیس وصول کرنے کی تجویز تھی۔ تاہم سٹڈی کی تکمیل اور ری کلاسیفکیشن پر پیش رفت نہ ہونے سے گلبرگ میں بڑھتی کمرشل سرگرمیوں کو باقاعدہ لینڈ یوز پلان کے تحت لانے اور ایل ڈی اے کی آمدن بہتر بنانے کا معاملہ تاحال حل طلب ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...