سیوریج لائنز تبدیلی کے درجنوں منصوبے مکمل نہ ہوسکے

سیوریج لائنز تبدیلی کے درجنوں منصوبے مکمل نہ ہوسکے

لاہور ڈویلپمنٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت اربوں خرچ ،حاجی پارک راجگڑھ تا اسلامپورہ ، سید پور،الممتاز روڈ ودیگرمقامات پرسیوریج مسائل برقرار اکثرعلاقوں میں30سے 75سال پرانی سیوریج لائنز پرمکینوں کو مشکلات،2001سے 2026تک مجموعی نیٹ ورک کا صرف17فیصد حصہ بچھایا جاسکا

لاہور(سٹاف رپورٹر سے )لاہور میں سیوریج لائنز تبدیلی کے درجنوں منصوبے عرصہ دراز سے مکمل نہ ہو سکے ۔ لاہور ڈویلپمنٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بوسیدہ سیوریج لائنزتبدیلی کا مسئلہ برقرار،حاجی پارک راجگڑھ سے اسلامپورہ تک سیوریج لائن خستہ حالی کا شکار ہے ، اسلامپورہ میں بارہا لائن بیٹھنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں ۔ لیاقت چوک سے سید پور سبزہ زار ،رحمت علی روڈ، ملت چوک، الممتاز روڈ اور ندیم شہید روڈ سمن آباد، بکر منڈی سے بند روڈ، گنج بخش روڈ اور ملحقہ آبادیوں، مین مسلم روڈ اچھرہ اور پراچہ کالونی سے گجر چوک شاہدرہ تک سیوریج لائنزتبدیلی کے منصوبے بھی ادھورے ہیں جنکی مجموعی لاگت ایک ارب 36 کروڑ 2لاکھ 97 ہزار روپے ہے ۔شہر کے مختلف علاقوں میں سیوریج لائنز 30 سے 75 سال پرانی ہیں۔

آؤٹ فال، انارکلی، میکلوڈ روڈ، لکشمی، گڑھی شاہو اور مصطفی آباد کا نظام 75 سال پہلے بچھایا گیا۔ باغبانپورہ، سنگھ پورہ، جی ٹی روڈ، مصری شاہ اور گلبرگ میں 56 سال پرانی سیوریج لائنز،ٹاؤن شپ، مسلم ٹاؤن، نوانکوٹ، سمن آباد، راجگڑھ اور کرشن نگر میں سیوریج لائنز 50 سال پرانی ہیں۔محمود بوٹی، کالج روڈ، مدینہ کالونی، داتا نگر اور بادامی باغ میں40 سال پرانا جبکہ ہربنس پورہ، گلشن راوی، اقبال ٹاؤن اور ملتان روڈ میں 30 سال پرانا سیوریج نظام موجود ہے ۔ مال روڈ، گورنر ہاؤس، شادباغ اور سرکلر روڈ کا نظام بھی ناکارہ ہے ۔2001 سے 2026 تک مجموعی سیوریج نیٹ ورک کا صرف17 فیصد حصہ بچھایا گیا۔واسا انتظامیہ کے مطابق سیوریج سسٹم کی بہتری کیلئے ماسٹر پلان بنایا گیا ہے، ٹنل بورنگ منصوبے سے پرانی لائنوں پر دباؤ کم کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...