موٹرسائیکلوں سے خارج ہونیوالا دھواں فضائی آلودگی کا سبب
انسپیکشن سٹیشنز ہیں اور نہ ہی موٹر سائیکلوں کی بڑے پیمانے پر جانچ کیلئے کافی ٹیمیں
لاہور( شیخ زین العابدین )لاہور میں سموگ کی بڑی وجوہات میں گاڑیوں اور صنعتی اخراج کے ساتھ موٹر سائیکلوں کا دھواں بھی شامل ہے ۔ تحقیقات کے مطابق لاہور کی فضا میں زہریلے ذرات کی مقدار بڑھانے میں ٹرانسپورٹ کا نمایاں کردار ہے ، پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے مطابق شہر میں سالانہ 26 ہزار 680 ٹن پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو خارج ہوتا ہے ، جس میں ٹرانسپورٹ کا حصہ 35 فیصد، صنعتی سرگرمیوں کا 28 فیصد اور اینٹوں کے بھٹوں کا 17 فیصد ہے ۔ایکسائز ڈیٹا کے مطابق لاہور میں رجسٹرڈ گاڑیوں میں تقریباً 80 فیصد موٹر سائیکلیں ہیں، بڑی تعداد میں چلنے والی ان موٹر سائیکلوں سے خارج ہونے والا دھواں فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے ، لیکن ان کی فٹنس جانچنے کا مؤثر نظام تاحال فعال نہیں ہو سکا۔موٹر سائیکلوں کو فٹنس رجیم میں شامل کرنے کے لیے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کی گئی، تاہم محکمہ ٹرانسپورٹ کے پاس نہ مطلوبہ انسپیکشن سٹیشنز ہیں اور نہ ہی موٹر سائیکلوں کی بڑے پیمانے پر جانچ کے لیے کافی ٹیمیں موجود ہیں۔وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کے مطابق موجودہ وہیکل انسپیکشن سٹیشنز پر موٹر سائیکلوں کی چیکنگ شروع کرنے سے کام کا بوجھ بڑھ جائے گا، حکام کے مطابق انتظامات مکمل ہوتے ہی موٹر سائیکلوں کی فٹنس جانچ شروع کر دی جائے گی۔تاہم جب تک یہ نظام فعال نہیں ہوتا، دھواں چھوڑنے والی موٹر سائیکلوں کی جانچ اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کا معاملہ بدستور التوا کا شکار رہے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments