لائف ٹائم کلیئرنس سرٹیفکیٹ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا
پراپرٹی ریکارڈ کی سفٹنگ کے باوجود2ہزار847فائلیں تاحال کلیئر نہ ہو سکیں پراپرٹی خرید و فروخت کیلئے لائف ٹائم کلیئرنس سرٹیفکیٹ پرعملدرآمد پیچیدہ ہو گیا
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )ایل ڈی اے میں پراپرٹی ریکارڈ کی سفٹنگ کے باوجود لائف ٹائم کلیئرنس سرٹیفکیٹ کا منصوبہ تاحال مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ ایل ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق اتھارٹی کے پاس ایک لاکھ 60 ہزار 24 پراپرٹیز موجود ہیں جن میں سے ایک لاکھ 993 فائلوں کی سفٹنگ مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ان میں 59 ہزار 272 پراپرٹیز کو کلیئر قرار دیکر لائف ٹائم کلیئرنس سرٹیفکیٹ اجرا کا دعویٰ سامنے آیا جبکہ 2 ہزار 847فائلیں تاحال کلیئر نہ ہو سکیں۔ ریکارڈ کے مطابق 14ہزار 647 پلاٹس ایل ڈی اے کی ملکیت یا پلاٹ بینک میں شامل ہیں۔ 13 ہزار 87 کیسز میوٹیشن اور مختلف اعتراضات کا شکار ہیں جبکہ 11 ہزار 140فائلیں الاٹمنٹ، لٹیگیشن اور دیگر تنازعات میں پھنسی ہوئی ہیں۔ایسے میں پراپرٹی کی خرید و فروخت کیلئے این او سی کا نصف صدی پرانا نظام ختم کرکے لائف ٹائم کلیئرنس سرٹیفکیٹ متعارف کرانے کی تجویز پر عملدرآمد پیچیدہ ہو گیا ہے ۔ قانونی یا احتسابی کارروائی پرسرٹیفکیٹ رکھنے والے خریداروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔دوسری جانب ایل ڈی اے نے اپنی ملکیتی اراضی کی نشاندہی اور تحفظ کیلئے ریڈ ٹیگنگ کی تجویز گورننگ باڈی کو بھجوائی، معاملہ حتمی منظوری کیلئے پنجاب حکومت کو ارسال کر دیا گیا ۔ریڈ ٹیگنگ کے ذریعے سرکاری زمینیںقبضہ مافیا سے محفوظ بنانے کا منصوبہ ہے تاہم لائف ٹائم کلیئرنس سرٹیفکیٹ اجرا سے پہلے ہزاروں متنازع فائلوں کا فیصلہ کرنا ایل ڈی اے کیلئے بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments