پھل کی مکھیوں سے پیدوار میں 60فیصد کمی کا خدشہ

پھل کی مکھیوں سے پیدوار میں 60فیصد کمی کا خدشہ

ملتان (جام بابر سے )پھل کی مکھیاں پھلوں اور سبزیوں کو نقصان پہنچاتی ہیں جس کی وجہ سے پیداوار میں 60فیصدتک کمی ہو جاتی ہے ۔

 صوبہ پنجاب میں پھل کی مکھی کی چار اقسام پائی جاتی ہیں اوریئنٹل پھل کی مکھی،آڑو کی مکھی،خربوزہ کی مکھی اوربیر کی مکھی۔تمام مکھیوں کا دوران زندگی تقریبا ایک جیسا ہوتا ہے ۔مارچ سے لے کر نومبر تک ان کی تعدادزیادہ ہوتی ہے ۔مادہ مکھی پھل کے چھلکے میں انڈے دینے والی سوئی چبھو کر بھورے سفید رنگ کے انڈے دیتی ہے ۔کچھ دنوں کے بعد ان انڈوں میں سے سفید اور لمبوتری سنڈیاں نکل آتی ہیں جوگودے میں داخل ہو کر اسے کھاتی ہیں۔جب یہ سنڈیاں پورے قد کی ہو جاتی ہیں تو پھل کے چھلکے میں سوراخ کر کے با ہر نکل آتی ہیں اور زمین پر گر جاتی ہیں بعدازاں یہ سنڈیاں زمین میں داخل ہو کر کو یا کی شکل میں تبدیل ہو جا تی ہیں۔ کو یا سے پر دار مکھیاں نکل کر زمین سے با ہر آجاتی ہیں اور اس طرح اس کیڑے کی افزائش نسل جاری رہتی ہے اوریئنٹل مکھی آم، سنگترہ، مالٹا، گریپ فروٹ، چکوترہ، لیموں، سیب، خوبانی، انار، کیلا، آلوبخارا، جاپانی پھل اورامرودکو نقصا ن پہنچا تی ہے ۔مادہ مکھی4سے 31 تک انڈے دیتی ہے ان انڈوں میں سے موسم گر ما میں 2سے 4 دن اور موسم سرما میں 4 سے 8 دن میں بچے نکل آتے ہیں جو کہ گر میوں میں 5سے 19اور سردیوں میں 9سے 20دن میں کویا کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ان کویوں میں سے گر میوں میں 2سے 4 دن اور سردیوں میں 12سے 30 دن میں پر دار مکھیاں نکل آتی ہیں۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں